The news is by your side.

Advertisement

ریسرچ جرنلز سے متعلق ایچ ای سی کے رویے پر اعتراضات اٹھنے لگے

کراچی: تحقیقات جریدوں سے متعلق ہایئر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان لگ گیا، جامعہ کراچی نے ایچ ای سی کے نمائندے کو طلب کر کے معاملہ واضح کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ریسرچ جرنلز سے متعلق ایچ ای سی کے رویے پر اعتراضات اٹھنے لگے، کراچی یونیورسٹی کے ریسرچ جرنلز کے مدیران نے شکایت کی ہے کہ ایچ ای سی کی ریسرچ جرنلز سے متعلق حالیہ پالیسیاں غیر واضح ہیں جس پر عمل درآمد مشکل ہے۔

اس سلسلے میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں گزشتہ روز شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی زیر صدارت ریسرچ جرنلز سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں جامعہ کراچی کے تمام ریسرچ جرنلز کے مدیران نے شرکت کی اور درپیش مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔

پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے شیخ الجامعہ اور مدیران کو بتایا کہ ایچ ای سی کی ریسرچ جرنلز سے متعلق حالیہ پالیسیوں کے غیر واضح ہونے کی وجہ سے ان پر عمل درآمد پر کافی مسائل ہیں، اور اگر ایچ ای سی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہو تو ایچ ای سی ان جرنلز کی منظوری بھی واپس لے سکتا ہے۔

جرنلز کے مدیران نے شیخ الجامعہ سے درخواست کی کہ ایچ ای سی کے نمائندے کو کراچی یونیورسٹی دعوت دے کر ان کی ملاقات کرائی جائے تاکہ ان سے ان مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے، انھوں نے کہا چند جرنلز ایچ ای سی کی تمام شرائط کی مکمل پابندی کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی تسلیم شدہ حیثیت منسوخ کر دی گئی ہے، جامعہ کراچی کے شعبہ فارمیسی کا جنرل بین الاقوامی طور پر مستند اور امپیکٹ فیکٹر میں ہے، مگر ایچ ای سی نے اس کی درجہ بندی کم کر دی ہے اور ابھی تک اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا۔

مدیران نے بتایا کہ ایچ ای سی نے جامعہ کراچی کے مدیران کو مطلع کیے بغیر ان کے جرنلز کو تسلیم شدہ جرنلز کی فہرست سے خارج کر دیا ہے جو انتہائی غلط ہے، اس پر شیخ الجامعہ نے اعلان کیا کہ جامعہ کراچی جلد ایچ ای سی کے نمائندے کو جامعہ کراچی بلا کر مدیران کے مسائل سے آگاہ کرے گی۔

اجلاس کے دوران ڈاکٹر عمار ظفر نے بتایا کہ جامعہ کراچی نے ڈی او آئی سروس خرید لی ہے اور تمام جرنلز کو مفت فراہم کی جائے گی، اس کے علاوہ وائس چانسلر نے اعلان کیا کہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام گلوبل جرنل آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹر یٹو سائنسز کو ایچ ای سی نے تسلیم کر لیا ہے اور اسے وائی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں