The news is by your side.

Advertisement

ہیلکس برج کی انفرادیت کیا ہے؟

سنگا پور کے علاقے مرینا بے میں واقع ہیلکس برج کی انفرادیت اس کا ڈھانچہ ہے جو انسان کے ڈی این اے (Deoxyribonucleic acid) سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔

اس برج کو انسانی ڈی این اے کی چار بنیادوں سائٹوسن، گوانائن، ایڈنائن اور تھائمین کے مانند چار حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ تقسیم برقی قمقموں سے نمایاں‌ کی گئی ہے۔ شام ڈھلتے ہی ہیلکس برج پر ایل ای ڈی لائٹس روشن ہو جاتی ہیں جو اس برج کا حُسن اور اس کی خوب صورتی بڑھاتی ہیں۔

اس مشہور پُل کے ایک جانب بینجمن شائرس پُل ہے جسے سنگاپور کا طویل ترین پُل مانا جاتا ہے جب کہ اس کے دوسری جانب مرینا بے ہے۔ سیر و تفریح کی غرض سے ہیلکس برج کا رخ کرنے والے اس پُل سے اطراف کے مناظر کا نظّارہ کرتے ہیں‌ جو اس بلندی اور دور تک پھیلی ہوئی روشنیوں کی وجہ سے خاصا دل کش معلوم ہوتا ہے۔

مقامی لوگوں‌ کے علاوہ غیر ملکی سیّاح بھی اس پُل کو دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ یہاں سے قریب بنی ہوئی بلند و بالا اور خوب صورت ڈیزائن کی مختلف عمارتیں اور پُل کے نیچے موجود پانی پر قمقموں کی روشنی گویا تیرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور یہ منظر آنکھوں‌ کو بہت بھلا لگتا ہے۔

اس پُل کو دنیا کا پہلا ’’آرکیٹیکچرئل اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہیلکس برج دس سال قبل عوامی آمدورفت اور سیر و تفریح‌ کے لیے کھولا گیا تھا۔ اس پُل نے اپنے طرزِ تعمیر اور بہترین ذرایع آمدورفت کے زمرے میں ’’عالمی آرکیٹیکچر فیسٹیول ایوارڈ‘‘ اور’’بلڈنگ اینڈ اتھارٹی ایکسیلینسی ایوارڈ‘‘ بھی اپنے نام کیا تھا۔

ہیلکس برج ایک عوامی گزر گاہ ہے جس سے لوگ مرینا بے کے ایک کنارے سے دوسرے تک پہنچتے ہیں۔ اسے ڈیزائن کرنے میں‌ مقامی کمپنی کے ساتھ آسٹریلوی انجینئروں سے بھی مدد لی گئی تھی۔

یہ عوامی گزر گاہ پہلے ڈبل ہیلکس برج کے نام سے مشہور ہوئی، لیکن آج اسے صرف ہیلکس برج کہا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں