The news is by your side.

Advertisement

ہیموفیلیا: خطرناک مرض جو زندگی بھر ساتھ نہیں چھوڑتا

آج ہیمو فیلیا کے مرض سے متعلق آگاہی کا دن منایا جارہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ بیس ہزار بچّے اس مرض کا شکار ہیں۔

انسانوں کی صحت اور علاج سے متعلق اداروں اور مختلف تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تین ہزار بچّے اس مرض سے متاثر ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر سیکڑوں مریض رجسٹرڈ نہیں جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں اور ایسے مریضوں کو ضروری اور مناسب توجہ، طبی امداد اور علاج کی سہولت حاصل نہیں‌ ہے۔

ہیمو فیلیا ایک موروثی مرض ہے، جسے سادہ الفاظ میں خون بہنے کی بیماری کہا جاسکتا ہے۔

ہمارے جسم میں قدرتی طور پر خون جمانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، لیکن اس مرض میں خون جمانے والے ذرّات اس حد تک کم ہوجاتے ہیں کہ جب ایسے فرد کو کوئی چوٹ یا زخم لگ جائے تو خون رکنے یا جمنے میں کافی وقت لگتا ہے اور ایسی صورت میں اگر زیادہ خون بہہ جائے تو موت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

یہ مرض اگر شدّت اختیار کر جائے تو بھی مریض کے جسم سے خون خارج ہوسکتا ہے۔

دنیا بھر میں ہیمو فیلیا کے مریضوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ ہے۔ اس مرض کی تین عام اقسام ہیں جن میں ہیمو فیلیا اے، بی اور ریئرفیکٹر ڈیفیشنسیز شامل ہے۔ ان میں سب سے عام ہیمو فیلیا اے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں