The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر ہیملچ جنھوں‌ نے سانس بحال کرنے کی تکنیک متعارف کروائی

کسی انسان کے گلے میں نوالہ یا کسی چیز کے اٹک جانے کی وجہ سے سانس بند ہو جائے تو ماہر ڈاکٹر جس معروف تکنیک کو استعمال کرکے سانس بحال کرتے ہیں، اس کے موجد ڈاکٹر ہنری ہیملچ ہیں۔

سانس بحال کرنے کی اس تکنیک سے پہلے 1962 میں ہینری ہیملچ نے چھاتی سے مواد نکالنے کے لیے جھلی بھی تیار کی تھی، جس کی مدد سے ویتنام کی جنگ کے متاثرہ کئی فوجیوں کی زندگیاں بچائی گئی تھیں۔ یوں یہ ان کا پہلا کارنامہ نہیں‌ تھا اور وہ طب کی دنیا میں ایک موجد اور ماہر معالج کے طور پر خود کو منوا چکے تھے۔

ڈاکٹر ہیملچ کا تعلق امریکا سے تھا، جہاں انھوں نے ولمنگٹن شہر میں‌ 1920 میں آنکھ کھولی۔ ہیملچ نے مختلف طبی مراکز میں‌ اور امریکی بحریہ سے وابستگی کے دوران جنگی میدان میں بھی خدمات انجام دیں‌۔ ہیملچ نے نیو یارک سے اپنے میڈیکل کریئر کا آغاز کیا تھا اور بنیادی طور پر ان کا شعبہ سرجری تھا۔

2016 میں انھیں دل کا دورہ پڑا جس کے نتیجے میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

سانس بحال کرنے اور سانس کی نالی میں‌ رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے 1974 میں انھوں نے جو تکنیک متعارف کروائی تھی اس میں متاثرہ فرد کے پیٹ کو زور سے دبایا جاتا ہے۔

ان کی یہ تکنیک زیادہ تر کیسز میں نہایت کارگر ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر ہنری ہیملچ کو خود بھی اپنی تکنیک کو اس 87 سالہ عورت پر آزمانے کا موقع ملا تھا جس کے گلے میں ہڈی پھنس گئی تھی اور انھوں‌ نے اپنی اس تکینک کی مدد سے اس کی زندگی بچائی تھی۔

ہنری ہیملچ نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران خدمات انجام دیتے ہوئے ہر قسم کے زخمیوں‌ کو قریب سے دیکھا اور خاص طور پر ان کا علاج کیا جنھیں‌ سرجری کی ضرورت تھی۔ ان میں‌ بارود سے زخمی ایسے فوجی بھی شامل تھے جنھیں‌ سانس لینے میں شدید دشواری محسوس ہورہی تھی اور انہی تجربات اور مشاہدوں کے سبب وہ اس تکنیک تک پہنچے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں