The news is by your side.

Advertisement

بچوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اسکول کا انوکھا اقدام

برلن : صبح 8 بجے اسکول کا آغاز کرنے کے بجائے طلباء کو پہلا پریڈ چھوڑنے کی سہولت دی گئی جس کے نتیجے میں انہیں کم تکھن محسوس ہوئی اور پڑھائی پر توجہ بھی بڑھ گئی جبکہ گھر جاکر بھی پڑھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق نیند کی کمی پوری کرنے کے لیے اسکولز کے اوقات ایک گھنٹہ دیر سے شروع کرنے کے فوائد پر بھی تحقیقات کی گئی ہیں لیکن جرمنی کے ایک اسکول نے منفرد تجربہ کیا ہے۔

مغربی جرمنی کے ایلڈورف ہائی اسکول نے ڈالٹن پلان نامی تعلیمی پروگرام پر عمل کرتے ہوئے اسکول آنے کے اوقات اور پڑھانے کے طریقہ کار کو طلباء کی مرضی سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صبح 8 بجے اسکول کا آغاز کرنے کے بجائے طلبا کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو پہلا پیریڈ چھوڑ کر ایک گھنٹہ دیر سے آسکتے ہیں۔

اسکول انتطامیہ نے بچوں کی آسانی کے پہلے پیریڈ میں نہ آنے کی تلافی بعد ازاں ہفتے کے اختتام پر اضافی پڑھائی کے ذریعے کروا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 9 ہفتوں کے تجربے کے بعد محققین نے ان تمام طلباء کی نیند کی ڈائریوں کا مطالعہ کیا جو اس کا حصہ تھے، اس کے علاوہ ان کی کلائی پر بندھی نیند کو مانیٹر کرنے والے آلات سے حاصل شدہ نتائج کا تجزیہ بھی کیا۔

تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف ایک گھنٹہ دیر سے تعلیم شروع کرنے کے باعث طلباء کی نیند میں بہت بہتری آگئی، اوسطا طلباء کی نیند میں تقریبا ایک گھنٹہ اضافہ ہوا اور وہ 6.9 گھنٹے سونے کے بجائے 8 گھنٹوں کی نیند لینے لگے۔

حتمی نتائج میں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جن طلبا نے اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر نیند کے اوقات میں اضافہ کیا انہوں نے کم تھکن محسوس کی، تعلیم کے دوران ان کا فوکس بھی بڑھ گیا اور گھر پر جا کر پڑھائی کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوگئی۔

اس تجربے سے یہ بات بھی سامنے آئی طلبا اسکول کے اوقات میں اپنی مرضی کو پسند کرتے ہیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری آتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں