site
stats
پاکستان

شہید اعتزاز حسن کی چوتھی برسی

اپنی جان کا نذرانہ دے کر ہنگو کے سیکڑوں طالب علموں کی جان بچانے والے اعتراز حسن کی آج چوتھی برسی ہے۔

بہادری کی مثال قائم کرنے والے پندرہ سالہ اعتزاز نے آج سے ٹھیک چار برس پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سیکڑوں ساتھی طالب علموں کی جان بچائی اور دہشت گردوں کو بتا دیا کہ وہ قوم کے بچوں سے بھی نہیں لڑ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ چھ جنوری 2014 کو ضلع ہنگو میں اعتزاز حسن نے اپنے اسکول میں داخل ہونے والے خودکش بمبار کو دبوچ کر متعدد طالب علموں کی جان بچائی اور خود اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

atizaz

ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی سے تعلق رکھنے والا اعتزاز احسن چھ جنوری کی صبح آٹھ بجے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ اسکول جارہا تھا کہ اسے راستے میں ایک اجنبی شخص اپنے اسکول کی طرف بڑھتا دکھائی دیا، جو دہشت گرد تھا۔

اسکول میں اسمبلی کے دوران جب خودکش بمبار سیکڑوں جانیں لینے کے لئے آگے بڑھا تو اعتزاز دشمن پر ساتھیوں کے منع کرنے باوجود جھپٹ پڑا اور اسے اس طرح جکڑا کہ دہشت گرد کی خود کش جیکٹ دھماکہ سے پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں اعتزاز احسن شہید ہو گیا ۔

اعتزاز حسن کو 6ستمبر2015کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا جبکہ ہیرالڈ میگزین کی جانب سے ہیرو آف دی ائیر کا اعزاز بھی دیا گیا۔

اعتزاز حسن کی شجاعت اور قربانی کے جذبےکو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top