The news is by your side.

Advertisement

سائنسدانوں نے ’خفیہ دنیا‘ تلاش کرلی

سائنسدانوں نے برفانی براعظم انٹارکٹیکا کی برفانی تہہ کے نیچے چھپی ایک ’خفیہ دنیا‘ تلاش کرلی۔

نیوزی لینڈ کے سائنسدانوں نے روس آئس شیلف سے چند سو کلومیٹر دور واقع برف کی تہہ کے نیچے ایک دریا میں جھینگوں سے ملتے جلتے جانداروں کو دریافت کیا ہے۔

لیکن اب سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے برفانی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک جگہ کھدائی کی تو وہاں دریا دریافت ہوا اور اس کے اندر بھیجے گئے کیمرے پر ایمفی پوڈز نامی مچھلیوں کے گروپ نے دھاوا بول دیا۔

The Antarctic research site

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کچھ وقت تک تو ہمیں لگا کہ کیمرے میں کوئی خرابی ہے مگر جب منظر کچھ بہتر ہوا تو ہم نے 5 ملی میٹر حجم کی مچھلیوں کو دیکھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم یہ منظر دیکھ کر اچھل پڑے تھے کیونکہ ان جانداروں سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں زندگی کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔

اسی ٹیم نے کچھ عرصے قبل روس آئس شیلف کی سیٹلائیٹ تصاویر سے برف کے نیچے چھپے دریا کے دہانے کو دریافت کیا تھا۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ اگرچہ ہم انٹارکٹیکا کی برفانی تہہ کے نیچے چھپے دریاؤں سے واقف ہیں مگر اب تک ان کا براہ راست سروے نہیں کیا جاسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ایک دریا کا مشاہدہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہم پہلی بار کسی خفیہ دنیا میں داخل ہورہے ہیں۔

انہوں نے آلات کو مشاہدے کے لیے دریا میں چھوڑ دیا جبکہ لیبارٹری میں یہ جانچ پڑتال کی جائے گی کہ کیا چیز اس پانی کو منفرد بناتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں