پشاور : مون سون کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریائی طغیانی اور گلیشیئر جھیل پھٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مون سون سیزن کے پیش نظر وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کے اعلیٰ حکام نے ہنگامی تیاریوں کا جائزہ لیا ہے، جبکہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
سرکاری حکام نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قدرتی آفات کے خطرات بڑھ گئے ہیں، غیر متوقع بارشوں، شدید گرمی، فلیش فلڈ، دریائی طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر جھیل پھٹنے جیسے واقعات کا خدشہ برقرار ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے تمام 37 اضلاع میں مون سون ایمرجنسی پلان فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ خطرات کے جائزے کے بعد صوبے کے 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریائی طغیانی اور گلیشیئر جھیل پھٹنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کر کے ضلعی ہنگامی منصوبوں کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے صوبائی نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے اور عوامی آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے، جبکہ رضاکاروں کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انخلا کے راستوں اور امدادی مراکز کا تعین کر لیا گیا ہے، جبکہ ریسکیو آلات، مواصلاتی نظام اور ہنگامی مشینری ہر وقت استعمال کے لیے تیار رکھی گئی ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹرز اور ضلعی انتظامیہ کو بھی مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔


