The news is by your side.

Advertisement

قیدیوں کی حالت زار پر ہائیکورٹ نے کمیشن قائم کردیا

اسلام آباد:‌ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک بھر کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی سربراہی میں کمیشن قائم کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں آنکھوں کےعلاج کیلئے سزائےموت کے قیدی کے خط پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سماعت کی ، سماعت میں چیف جسٹس نے حکومتی جواب نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے،میں تفصیلی حکم جاری کروں گا، عدالت کی سرزنش پرسرکاری وکیل نےجواب داخل کرانے کے لئے تین دن کی مہلت مانگی، چیف جسٹس کا کہنا تھا عدالت نے جواب کرانے کا حکم دیا تھا تو سرکاری وکیل نے کہا عدالت 3 دن کا وقت دے، بعد ازاں اسلام آبادہائیکورٹ نے سماعت ملتوی کر دی۔

بعدازاں چیف جسٹس اطہرمن اللہ نےتحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے قیدیوں کی حالت زار پروفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی سربراہی میں کمیشن قائم کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کے بعد عام قیدی کی طبی بنیاد پر ریلیف کی درخواست ، حکومتی جواب نہ آنے پر عدالت برہم

کمیشن کو7دن کےاندرپہلی میٹنگ کرنےکی ہدایت کی گئی ہے جب کہ وزارت صحت کوچاروں صوبوں میں خصوصی میڈیکل بورڈز قائم کرنے کا کہا گیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق سیکرٹری داخلہ،سیکریٹری اورسابق ڈی جی ایف آئی اےطارق کھوسہ بھی کمیشن کاحصہ ہوں گے۔

تحریری حکمنامہ اڈیالہ کےقیدی خادم حسین کی درخواست پرجاری کیاگیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز سزائےموت کے قیدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا تھا ، قیدی خادم حسین کی جانب سےآنکھوں کےعلاج کیلئےخط لکھا ، خط میں استدعا کی تھی کہ بینائی کامسئلہ ہےعلاج کے لئےسہولت فراہم کی جائے۔

عدالت نے خط کودرخواست میں تبدیل کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں