ارشاد رانجھانی قتل کیس: جوڈیشل انکوائری کا معاملہ الجھ گیا -
The news is by your side.

Advertisement

ارشاد رانجھانی قتل کیس: جوڈیشل انکوائری کا معاملہ الجھ گیا

کراچی: ارشاد رانجھانی قتل کیس پر جوڈیشل انکوائری کرانے کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو جوابی خط لکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق ارشاد رانجھانی قتل کیس میں سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کو جوڈیشل انکوائری کی درخواست کی تھی، ہائی کورٹ نے جواب میں کہا ہے کہ براہ راست جوڈیشل انکوائری کرانے کا اختیار ہائی کورٹ کے پاس نہیں ہے۔

سیشن جج خود یا ایڈیشنل سیشن جج جوڈیشل انکوائری کرا سکتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ

رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل انکوائری کا اختیار متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ہے۔

سندھ کی عدالتِ عالیہ نے سندھ حکومت سے کہا کہ وہ معاملے پر متعلقہ سیشن جج سے رجوع کر سکتی ہے، سیشن جج خود یا ایڈیشنل سیشن جج جوڈیشل انکوائری کرا سکتا ہے۔

ہائی کورٹ کے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوڈیشل انکوائری سے متعلق رہنمائی کے لیے 2005 کا عدالتی فیصلہ موجود ہے۔

جوابی خط کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ نے سابقہ حکم نامہ بھی منسلک کرتے ہوئے کہا کہ 2005 کے بعد سے جوڈیشل انکوائری کے لیے متعلقہ سیشن جج کو ہی خط لکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ارشاد رانجھانی قتل کیس میں پولیس بھی ملوث ہے: وزیرِ اعلیٰ سندھ

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ارشاد رانجھانی قتل کیس میں پولیس کی نا اہلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارشاد رانجھانی قتل کیس میں پولیس بھی ملوث ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ارشاد رانجھانی معاملے پر 24 گھنٹے میں جوڈیشل انکوائری کی درخواست کی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں