پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

طلسم خانہ اور مسافر (حکایت)

اشتہار

حیرت انگیز

پرانی کتابوں میں ایک قصہ مشہور ہے کہ شہر اصطخر سے باہر اک بڑا طلسم خانہ تھا۔ بعض وقت جب راہ چلتے مسافروں کو رات کا اندھیرا گھیر لیتا تو وہاں جاکر پناہ لیتے۔ مگر جب بھی کوئی مسافر وہاں گیا موت کا شکار ہوا۔ صبح کو روشنی میں جب لوگ اس کی تلاش میں نکلتے یا اس طلسم خانہ میں جاتے وہ اس طلسم خانہ کے راز سے ناواقف اور انجان مسافروں‌ کو مردہ پاتے۔

یہ کسی کو علم نہ تھا کہ رات گزارنے والے کی موت کی وجہ کیا ہے۔ بہ ظاہر مردے کے بدن پر بھی ضرب یا چوٹ وغیرہ اور کوئی ایسی علامت بھی نہیں دیکھی جاتی کہ اس کی موت کے سبب پر کوئی قیاس ہی کیا جاسکے۔ طلسم خانے کا یہ معاملہ قافلوں میں اور شہریوں میں یکساں طور پر بہت مشہور تھا۔ جو قافلے اور مسافر مستقل اس راستے سے گزرتے تھے، اور ان کو رات کے وقت طلسم خانے میں موت کے بھیانک کھیل کا علم ہوتا تھا، وہ کبھی یہاں رات کو نہیں‌ داخل ہوتے تھے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص نے زندگی سے اکتا کر موت کو ترجیح دینا پسند کیا۔ وہ اپنے ہاتھوں خود کشی تو کر نہیں سکتا تھا۔ اس لیے وہ طلسم خانہ میں اس امید پر گیا کہ شاید اسے موت آجائے۔ طلسم خانہ کے پاس کچھ آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اسے بڑی نصیحت کی اور موت سے ڈرایا مگر اُس نے اُن کی ایک نہ سنی۔ اُس نے کہا ” موت کی تلاش میں ہی تو میں یہاں آیا ہوں۔”

رات گہری ہوتی گئی اور جس وقت وہ طلسم خانہ کے عین وسط میں پہنچا تو یکایک بڑی زور دار ڈراؤنی آوازیں آنے لگیں۔ اُسے یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک بڑی بھیڑ اس کے سامنے کھڑی شور مچا رہی ہے اور اس سے کہہ رہی ہے کہ ہم تمہیں ختم کرنے کے لیے آئے ہیں، دیکھو ہم ابھی تمہاری جان نکال لیں گے، دیکھو ابھی تمہارے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے اور تمہاری ہڈیوں کو پیس دیا جائے گا۔ اس نے زور کا نعرہ لگا کر کہا کہ اسی لیے تو زندگی سے اکتا کر میں تمہارے پاس آیا ہوں، جلدی آؤ اور میرا کام تمام کر دو۔ ابھی اس کی بات پوری ہونے بھی نہ پائی تھی کہ تڑاک تڑاک کی آوازیں آئیں اور جیسے طلسم ٹوٹ گیا۔ ایک جانب کی دیوار پھٹ گئی۔ اس سے اشرفیاں گرنے لگیں۔ اور خزانوں کے دروازے کھل گئے۔

زندگی سے بیزار اور موت کی آروز میں‌ طلسم خانے میں آنے والے اس آدمی کو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی بھی ہوئی اور اس کے دل کو آرام بھی پہنچا۔ آخر وہ وہاں سو گیا۔ صبح کو جب خوب روشنی ہوئی تو جن لوگوں نے اُس کو رات اندر جانے سے روکا تھا وہ اس کا مردہ اٹھانے کے خیال سے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ آدمی تو زندہ ہے اور ان سے خوشی خوشی سونے اور چاندی کے سکّے اٹھانے کے لیے برتن مانگ رہا ہے۔ جب اُس نے ان کو اپنا قصہ سنایا تو سب کہنے لگے کہ بے شک آج تک جتنے لوگ بھی مرے ہیں وہ صرف ان ڈراؤنی آوازوں کی ہیبت سے مرے ہیں۔ اگر وہ زندگی کی طلب میں بہادری اور شجاعت سے اس طلسم اور فریب کے آگے ڈٹ‌ جاتے تو شاید یہ سب نہ ہوتا اور تو وہ مرد ہے جس نے ناامیدی اور مایوسی کو اپنے ارادے کی پختگی اور بے جگری سے ایسی زندگی میں بدل لیا جس نے دنیاوی طور پر تجھے مالا مال بھی کردیا ہے۔

(جمال الدین افغانی کی کتاب سے ماخوذ)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں