The news is by your side.

Advertisement

خوش بخت کسان

ایک بادشاہ شکار کی غرض سے جنگل کو گیا۔ اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں‌ ہوا اور شکار کی تلاش میں‌ اسے جنگل میں رات ہو گئی۔ وہ سردی کا موسم تھا۔

بادشاہ فکر مند تو بہت ہوا، لیکن رات ہو چکی تھی اور اس نے کڑھنے اور خود کو کوسنے کے بجائے جستجو شروع کردی کہ رات گزارنے کے لیے کوئی ٹھکانہ مل جائے۔ اتفاق سے ایک مقام پر اسے کسی کسان کا مکان نظر آگیا۔ بادشاہ نے سوچا کہ شب گزارنے کے لیے یہ مکاں ناموزوں نہیں۔ لیکن جب یہ بات اپنے وزیر کو کہی تو اس نے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ عالی جاہ، یہ بات کسی طرح بھی مناسب نہیں کہ بادشاہ ایک کسان کا مہمان بنے اور اس سے رات بسر کرنے کی اجازت لے۔ ہمارے لیے بہتر صورت یہی ہے کہ کھلے میدان میں خیمہ زن ہوجائیں، آگ روشن کریں اور مشکل کی یہ گھڑی گزار دیں۔

بادشاہ نے اس بات سے اتفاق کیا لیکن کسی طرح کسان کو بھی ان کی اس بات چیت سے آگاہی ہو گئی۔ اس نے اپنی حیثیت کے مطابق کھانے پینے کا کچھ سامان لیا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت ادب سے بولا، حضور والا کی شان اس بات سے ہرگز کم نہ ہوتی کہ ایک دہقان کے گھر کو اپنے قدموں سے عزت بخشتے لیکن یہ ناچیز اس عنایت سے ضرور سرفراز ہو جاتا۔

بادشاہ نے اس کے خلوص اور ادب کی قدر کی۔ رات اس کے مکان میں بسر کی اور صبح کے وقت جب اپنے محل کی طرف روانہ ہوا تو دیہاتی کو خلعت اور انعام و اکرام سے نوازا۔ دیہاتی کی خوشی اور عقیدت قابلِ دید تھی۔ وہ بادشاہ کے گھوڑے کے ساتھ چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔

شان کچھ بادشاہ کی نہ گھٹے
وہ اگر مہماں ہو دہقاں کا
ہاں مگر وہ ہو آفتاب نصیب
سایہ اس پر پڑے جو سلطاں کا

حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ بات بتائی ہے کہ ہم مرتبہ لوگوں کے مقابلے میں کم حیثیت لوگوں کے ساتھ معمولی سلوک بھی بہت فائدہ پہنچاتا ہے۔ کیونکہ وہ اسے اپنی خوش نصیبی خیال کر کے زیادہ شکر گزار ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ یہ بات ذی حیثیت لوگوں کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ غریبوں اور کمزوروں کو حقیر جان کر ان سے بے اعتنائی نہ برتیں بلکہ یہ بات تسلیم کریں کہ انسان ہونے کے ناتے وہ بھی کارآمد اور مفید ثابت ہوسکتے ہیں اور باعزت ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں