پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

ایک اعرابی کا قصّہ جس نے خلیفہ مامون کو تحفتاً میٹھا پانی پیش کیا

اشتہار

حیرت انگیز

محمد عوفی کی تالیف کردہ ”جوامع الحکایات و لوامع الروایات” کو فارسی زبان و ادب کی چند اہم کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا سبب اس کی افادی حیثیت اور موضوعی خصوصیت ہے۔ یہ حکایات کا وہ مجموعہ ہے جس پر تاریخ کا رنگ غالب ہے اور اس کی متعدد جلدیں ہیں۔ اس کا اردو ترجمہ اردو کے ممتاز رومانوی شاعر اختر شیرانی نے کیا تھا جس سے یہ حکایت نقل کی جارہی ہے۔

یہ اس زمانے کا ذکر ہے، جب مامون نیا نیا تختِ خلافت پر بیٹھا تھا اور اُس کے ایثار و کرم کا شہرہ دور دور پھیل رہا تھا۔ کسی بے آب و گیاہ شورستان میں کوئی اعرابی رہتا تھا۔ وہ ایک ایسے قبیلے کا فرد تھا، جس نے کبھی صاف اور میٹھے پانی کا ذائقہ نہ چکھا تھا۔ کیوں کہ اس خطے میں بارش کا پانی بھی زمین کی شوریت سے متاثر ہو کر نمکین اور گدلا ہو جاتا تھا۔ اس سال بد قسمتی سے اس علاقے میں بارش نہ ہوئی اور ہر طرف قحط پھیل گیا۔ اہلِ قبیلہ پریشان ہو گئے اور گزر اوقات کی تدبیریں سوچنے لگے۔ اعرابی کو اور کچھ نہ سوجھا تو خلیفہ کی خدمت میں جانے کی ٹھیرائی۔ مامون کی داد و دہش کے واقعات زبان زد عام تھے۔ امداد کی امید میں دارالخلافے کی طرف چل کھڑا ہوا۔

اپنی نمکین زمین کی حدود سے باہر نکلا تو ایک دن ایک ایسے تالاب کے کنارے جا پہنچا جس کا گدلا پانی ہوا کے اثر سے کسی قدر صاف ہو چکا تھا۔ اعرابی نے اسے پیا تو مزہ ہی کچھ اور پایا۔ حیران رہ گیا کہ دنیا میں اتنا صاف اور شیریں پانی بھی ہوتا ہے۔

اپنے دل سے کہنے لگا، بخدا کہ یہ بہشت کا پانی ہے، شاید مجھے میری مصیبتوں سے نجات دلانے کے لیے خدا نے بہشت سے بھجوایا ہو۔ مناسب یہ ہو کہ تحفے کے طور پر امیر المومنین کے لیے بھی لے چلوں۔ اُس نے اس قدر شیریں پانی کہاں پیا ہو گا۔ انعام اکرام سے مالا مال کر دے گا۔

یہ سوچ کر اعرابی نے اپنا مشکیزہ بھر لیا اور منزل مقصود کی طرف روانہ ہوا۔ کوفے کے قریب پہنچا ہوگا کہ اتفاق سے مامون شکار کے سلسلے میں اس طرف آیا ہوا اور فرات کے کنارے شکار کھیلنے میں مصروف تھا۔ دورانِ شکار میں اعرابی پر نظر پڑ گئی۔ پاس بلوایا اور دریافت کیا کہاں سے آنا ہوا؟

اعرابی نے جواب دیا،”صحرائے دور دراز سے آرہا ہوں۔”

پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟

کہا،”امیر المومنین کی خدمت میں جا رہا ہوں۔ اُس کے لیے ایک ایسا تحفہ لایا ہوں کہ شاید ہی کسی اور خلیفہ کو نصیب ہوا ہو گا۔ یہ سن کر مامون نے کہا، میں ہی امیر المومنین ہوں۔ لا وہ ایسا کون سا نادر تحفہ ہے جو تُو میرے لیے لے کر آیا ہے۔

اعرابی نے جواب دیا۔ امیرالمومنین میں تیرے لیے بہشت کا پانی لے کر آیا ہوں۔ صاف، شیریں مزے دار!

مامون نے کمال فراست سے صورت حال معلوم کرلی اور کہا، "لا میں پی کر دیکھوں! اعرابی نے مشکیزہ آگے کیا اور مامون کے حکم سے صراحی میں خالی کر لیا گیا۔ اُس نے از راہِ دل جوئی تھوڑا سا پانی بھی پیا اور بولا، واقعی نہیں ہے یہ مگر بہشت کا پانی، بتا تیری حاجت کیا ہے؟

اعرابی نے جواب دیا۔ "قحط اور تنگ دستی کے ہاتھوں اپنا مسکن چھوڑا اور غربت اختیار کی ہے۔ آرزو تھی کہ امیر المومنین کی خدمت میں رسائی حاصل ہو جائے اور دل کی مراد بر آئے۔

یہ سن کر مامون نے کہا، "میں تیری مراد پوری کرتا ہوں، مگر ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ تُو اسی جگہ سے واپس ہو جائے اور آگے جانے کا ارادہ نہ کرے۔

اعرابی نے اس کا وعدہ کیا تو ماموں نے حکم دیا کہ اس کا مشکیزہ اشرفیوں سے بھر دیا جائے۔ ساتھ ہی ایک نگہبان مقرر کر دیا کہ اسے ادھر اُدھر نہ جانے دے اور صحرا میں داخل کر کے واپس آئے۔

اعرابی جا چکا تو مصاحبوں نے پوچھا کہ اعرابی کو صحرا کی طرف لوٹانے میں کیا مصلحت تھی؟

خلیفہ مامون نے جواب دیا، اگر وہ چند قدم اور آگے بڑھ جاتا اور فرات کا پانی پیتا تو اپنے تحفے سے شرمندہ ہوتا۔ مجھے شرم آئی کہ ایک شخص میرے لیے تحفہ لائے اور انعام کی بجائے شرمندگی اٹھا کر جائے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں