The news is by your side.

Advertisement

ہیلری کلنٹن کی شکست کی وجہ خواتین سے نفرت؟

نیویارک: سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے گزشتہ برس ان کی انتخابی مہم کو ناکام بنانے میں اس رویے کا بہت بڑا ہاتھ تھا جس میں خواتین کو نفرت اور تعصب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

سنہ 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد پہلی بار دیے جانے والے انٹرویو میں ہیلری کلنٹن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی ابھی تک ایک خاتون کو بطور صدر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا، ’پہلی خاتون صدر کا تصور بہت سے افراد کے لیے ایک پرجوش اور خوش کن تصور ہوگا، لیکن زیادہ تر افراد اس سے خوفزدہ تھے‘۔

hilary-2

نیویارک میں جاری وومین ان دا ورلڈ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’امریکی صدارتی انتخاب میں خواتین سے نفرت کے رویے نے اہم کردار ادا کیا، اور ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا‘۔

ہیلری کا کہنا تھا کہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کس طرح ایسی پالیسیاں بنا رہی ہے جو ہزاروں لوگوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں خصوصاً دنیا بھر کی خواتین کے حقوق کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا، ’خواتین کو تعصب اور نفرت کا نشانہ بنانے کا رجحان جو آج کل جاری ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کسی کے سیاسی ایجنڈے میں اپنی جگہ نہیں بنا سکتا۔ یہ صرف ذاتی عمل ہے۔ ہم جتنا خواتین کی حمایت کریں گے اتنا ہی جمہوریت مضبوط ہوگی‘۔

مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس میں صنفی تفریق

سابق خاتون اول کا کہنا تھا کہ ان کا مزید کسی انتخاب لینے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم وہ ایک کتاب لکھنے جارہی ہیں جس میں وہ ان محرکات پر روشنی ڈالیں گی جن کے باعث وہ امریکا کی پہلی خاتون صدر بننے سے رہ گئیں۔

وہ کہتی ہیں، ’یہ کتاب ان 6 کروڑ سے زائد افراد کے لیے لکھی جارہی ہے جنہوں نے مجھے ووٹ دیا‘۔

ہیلری کلنٹن امریکی خاتون اول رہنے کے ساتھ اوباما انتظامیہ میں سیکریٹری خارجہ بھی رہ چکی ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی بارک اوباما کے مدمقابل بطور صدارتی امیدوار کھڑے ہونے کا ارادہ رکھتی تھیں تاہم اس وقت ڈیمو کریٹک پارٹی نے اوباما کو اپنا امیدوار منتخب کیا۔

مزید پڑھیں: امریکا کی فیشن ایبل خواتین اول

گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں ہیلری کلنٹن ایک بار پھر ٹرمپ سے شکست کھا گئیں اور ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں