The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں طوفانوں کی وجہ کلائمٹ چینج ہے، ہیلری کلنٹن

واشنگٹن: امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے آنے والا ہرمائن سمندری طوفان موسمیاتی تغیر یا کلائمٹ چینج کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکیوں کو ایسے مزید طوفانوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

فلوریڈا میں انتخابی مہم کے دوران ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ہیلری نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سال 2015 ایک گرم ترین سال تھا اور اس کے سائنسی شواہد موجود ہیں۔ ’حال ہی میں آنے والا سمندری طوفان اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمیں شدید موسموں کا سامنا کرنا ہوگا اور امریکا کا ہر شخص اس سے متاثر ہوگا‘۔

h2

انہوں نے سائنسی تحقیق اور رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنہ 1950 سے سطح سمندر میں ہر سال ایک انچ اضافہ ہو رہا ہے۔ ’اس لحاظ سے 2030 تک، جو زیادہ دور نہیں، ہم 70 بلین ڈالر مالیت کا ساحلی رقبہ کھو دیں گے‘۔

واضح رہے کہ سمندر کنارے واقع امریکی ریاست فلوریڈا کلائمٹ چینج کے مختلف عوامل جیسے سطح سمندر میں اضافہ، مختلف سمندری طوفان اور سیلابوں کا براہ راست شکار بنتی ہے اور ہر بار اسے انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گذشتہ ہفتہ آنے والا سمندری طوفان ہرمائین ماہرین کے مطابق کمزور ترین طوفانوں کے درجہ میں رکھا گیا تاہم اس نے فلوریڈا میں خاصی تباہی مچائی۔

h3

ہیلری کلنٹن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ انفرا اسٹرکچر کے تمام ترقیاتی منصوبے سیلابوں اور کلائمٹ چینج کے دیگر خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیے جائیں تاکہ یہ بدترین صورتحال میں بھی کام کرسکیں۔

اس سے قبل ایک رپورٹ میں کلائمٹ چینج سے امریکا کی عسکری صلاحیت میں کمی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تغیر یا کلائمٹ چینج کے باعث امریکا کے مشرقی ساحل پر قائم فوجی اڈوں کو تباہی کا سخت خطرہ لاحق ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ کلائمٹ چینج کے باعث امریکا میں مستقل آنے والے سمندری طوفان اور سطح سمندر میں اضافہ ان فوجی اڈوں، ان کے تحت چلائے جانے والے آپریشنز اور یہاں موجود تنصیبات کو متاثر کرے گا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ 2050 تک یہ اڈے سیلاب سے 10 گنا زیادہ متاثر ہوں گے اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو روز پانی کے تیز بہاؤ یا سیلاب کا سامنا کریں گے۔

ان 18 اڈوں میں سے 4 اہم فوجی اڈے صدی کے آخر تک اپنا 75 سے 95 فیصد رقبہ کھودیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں