The news is by your side.

Advertisement

ہندوستانی فلم ساز خوش، ہفتے بھر دعوتِ عام کا اہتمام!

تقسیمِ ہند سے قبل برطانوی راج میں جب اسٹیج، تھیٹر کے بعد فلم سازی کا سلسلہ شروع ہوا تو پروڈکشن ہاؤس اور اسٹوڈیو قائم ہونے لگے۔

1930 کے بعد ’بامبے ٹاکیز‘ نے بھی فلم سازی میں خوب نام کمایا اور اس دور کے شائقین نے اس بینر تلے معیاری اور بامقصد فلمیں دیکھیں اور پروڈکشن ہاؤس سنیما بینوں کی توجہ حاصل کرتا چلا گیا۔ اس بینر تلے بننے والی کئی فلمیں سپر ہٹ ثابت ہوئیں اور متعدد فن کاروں کو اس دور میں سنیما کی بدولت شہرت اور مقبولیت ملی۔

اسی پروڈکشن ہاؤس کا ایک واقعہ سنیما کی تاریخ سے متعلق ایک کتاب میں ملتا ہے جو آپ کی دل چسپی کے لیے پیش ہے۔

1943 میں اس پروڈکشن ہائوس کے بینر تلے بننے والی فلم ’’قسمت’’ نے ہندی سنیما میں نئی تاریخ رقم کی، جو اس وقت کولکتہ کے ایک مووی تھیٹر میں مسلسل ساڑھے تین سال تک چلی تھی۔

یہ پروڈکشن ہاؤس کی بڑی کام یابی تھی اور ہر لحاظ سے مالکان کے لیے سود مند ثابت ہوئی۔ یہ فلم پروڈکشن ہاؤس کی نام وری، شہرت اور مالی فائدے کا سبب بنی تھی۔

کہتے ہیں اس ناقابلِ یقین کام یابی کو دیکھتے ہوئے کمپنی کے مالک راج نارائن دوبے اس قدر خوش ہوئے کہ انھوں نے کولکتہ میں ایک عوامی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس زمانے میں فلمی صنعت کا مرکز کولکتہ ہوا کرتا تھا۔

یہ عوامی دعوت تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہی اور فلم ساز ادارے کے مالک نے بخوشی اس کے اہتمام پر اٹھنے والے اخراجات برداشت کیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں