The news is by your side.

Advertisement

بھارت : ہندو انتہا پسندوں نے مسلمان ڈرائیور کو وحشیانہ تشدد کرکے مار ڈالا

نئی دہلی : بھارت میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کرنے کی واردات ہوئی ہے، سواری کے روپ میں ہندو انتہا پسندوں نے آفتاب عالم کو جے شری رام کے نعرے لگانے اور شراب پینے پر بھی مجبور کیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں ہندو انتہا پسندوؤں نے مسلمانوں کا جینا دو بھر کردیا، مودی سرکار کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندو مسلمانوں پر بے تحاشہ تشدد کرنے لگے، مسلمانوں پر نہ صرف تشدد کیا جاتا ہے بلکہ ان کے گھر بھی جلا دیئے جاتے ہیں اور ان کو علاقے سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔

ایک ایسا ہی واقعہ دہلی کے رہائشی مسلمان کیب ڈرائیور آفتاب عالم کے ساتھ بھی پیش آیا، آفتاب عالم دہلی سے سواری لے کے بلند شہر گیا تھا جہاں سے واپسی پر کچھ لوگ زبردستی اس کی گاڑی میں بیٹھ گئے اور مسلمان ہونے کی پاداش میں وحشیانہ تشدد کے بعد اس کا قتل کر دیا گیا۔

اس حوالے سے مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کو مشتعل ہجوم نے قتل کیا ہے، قتل کرنے سے پہلے آفتاب پر جے شری رام کا نعرہ لگانے اور شراب پینے کا دباؤ ڈالا گیا تھا جبکہ پولیس اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔

اہل خانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوپی پولیس کی جانب سے کیس میں شدت پسندی کے زاویے پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور کچھ حقائق رپورٹ میں درج نہیں کیے گئے ہیں۔

آفتاب عالم کے بیٹے محمد صابر نے میڈیا کو بتایا کہ میرے والد اپنی ایک واقف سواری کو لے کر گڑگاؤں سے بلند شہر گئے تھے، جب وہ انہیں ڈراپ کر کے واپس آ رہے تھے تو آگے تک چھوڑنے کا کہتے ہوئے دو تین لوگ زبردستی گاڑی میں بیٹھ گئے۔

جب میرے والد کو ان لوگوں پر  شک ہوا تو انہوں نے میرا نمبر لگا کر موبائل جیب میں ڈال لیا اور میں نے ان کی بات چیت کو اپنے فون پر ریکارڈ کیا ہے۔

محمد صابر نے بتایا کہ وہ لوگ میرے والد سے کہہ رہے تھے کہ تو مسلمان ہے تو کیا ہوا، دارو (شراب) تو تجھے پینی پڑے گی، ہمارے یہاں بھی 10-15 مسلمان رہتے ہیں وہ بھی دارو پیتے ہیں، اس کے بعد ان پر جے شری رام کا نعرہ لگانے کا بھی دباؤ ڈالا گیا، اس کے کچھ دیر بعد ہی موبائل فون بند ہو گیا۔

صابر کے مطابق اس کے بعد وہ میور وہار تھانہ پہنچے اور پولیس کو ساری بات بتائی۔ وہاں سے پتا چلا کہ چتاڑا نامی مقام پر فون بند ہوا تھا۔ اس کے بعد دادری اور سکندرآباد پولیس کو گاڑی کو تلاش کرنے کے لئے کہا گیا جوکہ بادل پور سے 4 کلومیٹر دور کھڑی ہوئی پائی گئی۔

صابر کا مزید کہنا تھا کہ ہماری گاڑی تو مل گئی لیکن جب تک وہ وہاں تک  پہنچے میرے  والد کو اسپتال میں مردہ قرار دے دیا گیا تھا،
صابر کا کہنا ہے کہ پولیس نے جو رپورٹ لکھی ہے اس میں یہ نہیں لکھا کہ یہ موب لانچنگ کا کیس ہے۔

اس کے علاوہ ان کے فون نمبر اور ریکارڈنگ کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور قاتلوں کو سخت سے سخت سزا ملے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں