The news is by your side.

Advertisement

ہندو انتہاپسندوں نے مسلمان کرکٹر محمد شامی کو نشانے پر لے لیا

ہندو انتہا پسندوں نے پاکستان سے بھارت کی عبرتناک شکست کا سارا ملبہ مسلمان بولر محمد شامی پر ڈال دیا، مسلمان کرکٹر کیخلاف نفرت انگیز مہم شروع ہوگئی۔

دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی عبرتناک شکست پر انتہا پسند بھارتی شہری آپے سے باہر ہوگئے، شکست کا ذمہ دار مسلمان کرکٹر محمد شامی کو ٹہرا کر خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم شروع کردی۔

پاکستان کی جیت کے ساتھ ہی بھارتی کرکٹ ٹیم کے مسلمان بولر محمد شامی کو ہندو انتہاپسندوں کی مغلظات کا نشانہ بنانا شروع کردیا تھا اور انہیں پاکستانی جاسوس قرار دیا گیا۔

محمد شامی کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے پر بھارتی صحافی برکھا دت، سابق بولر عرفان پٹھان، لیجنڈ انڈین کرکٹر سچن ٹنڈولکر سمیت متعدد شخصیات نے دفاع کیلئے میدان میں آگئے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں سچن ٹنڈولکر نے کہا کہ ‘جب ہم ٹیم انڈیا کی سپورٹ کرتے ہیں تو اس کی نمائندگی کرنے والا ہر کھلاڑی بھی اسی بات کا متضاضی ہے’۔

سچن ٹنڈولکر کا کہنا تھا کہ ‘محمد شامی بہت باصلاحیت اور ورلڈ کلاس بائولر ہیں’۔

عرفان پٹھان نے اپنے ٹوئٹ میں محمد شامی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم بھی پاک بھارت جنگ کا حصّہ رہے ہیں، جہاں ہم شکست سے بھی دوچار ہوئے لیکن ہمیں کبھی نہیں کہا گیا کہ پاکستان جاؤ! میں کچھ برس پہلے والے بھارت کی بات کررہا ہو’۔

عرفان پٹھان نے کہا کہ ‘اب محمد شامی کے خلاف شروع کی گئی اس بدسلوکی کو رکنا چاہیے’۔

سابق بھارتی کرکٹر سہواگ نے مسلمان کرکٹر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘محمد شامی پر آن لائن حملوں نے دنگ کردیا ہے’۔

انہوں نے محمد شامی کو چیمپئن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘جس نے بھی بھارتی کیپ پہنا اس کے دل میں آن لائن تنقید کرنے والوں سے زیادہ انڈیا بستا ہے’۔

سہواگ نے محمد شامی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم تمہارے ساتھ ہیں، اگلے میچ میں جلوا دکھا دو شامی’۔

Comments

یہ بھی پڑھیں