The news is by your side.

Advertisement

بھارت: مسلمان ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

بھارت میں ہندوانہتا پسندوں نے اپنے مذہبی تہوار کی آڑ میں مسلمانوں کی گوشت کی دکانیں زبردستی بند کرانا شروع کردی ہیں۔

بھارت میں ہندو انتہا پسندی عروج پر ہے جس کا سب سے زیادہ نشانہ مسلمان بنتے ہیں اور آئے دن کسی نہ کسی بہانے یہ مسلمانوں کو جانی ومالی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اب ہندو انتہا پسند اپنے مذہبی تہوار کی آڑ میں مسلمانوں کے معاشی قتل پر تُل گئے ہیں اور حکمراں جماعت بی جے پی کے کارکنوں نے مسلمانوں کی گوشت کی دکانوں کو بند کرانا شروع کردیا ہے جس کے باعث مسلمانوں میں خوف وہراس بڑھ گیا ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق دس دن تک جاری رہنے والے مشہور ہندو تہوار درگا مائی کی پوجا کے کے آغاز کے ساتھ ہی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمانوں کو گائے کے گوشت کی دکانیں بند رکھنے کیلیے مجبور کیا جارہا ہے اور کئی علاقوں میں زبردستی دکانیں بند کرادی گئی ہیں۔

اس حوالے سے جنوبی اور مغربی نئی دہلی کے میئرز کی بھی متعصبانہ تجویز سامنے آگئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہوار کے دس دن تک مندر میں آمدورفت زیادہ ہوجاتی ہے ایسے میں مندر آنے والوں کو دکانوں پر لٹکا گائے کا گوشت دیکھ کر تکلیف ہوگی۔

میئرز نے اپنے طور اسے امن عامہ سے جوڑ کر کہا ہے کہ اس سے ہندو کمیونٹی کے جذبات بھڑک سکتے ہیں اس لیے مسلمان ان دس دنوں کے دوران اپنی دکانیں بند رکھیں۔

بلدیاتی اداروں کے سربراہان نے گوشت فروشوں پر شہر میں گندگی پھیلانے کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گائے کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے بجائے سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے جس سے گندگی پھیلتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہریانہ کے گرو گرام (گڑگاؤں)میں شیوسینا کے کچھ کارکنوں نے گوشت اور چکن کی دکانوں کو نشانہ بنایا  تھا۔ان شیو سینکوں نے نوراتری کے پیش نظر گوشت اور چکن کی تقریبا 500دکانوں کو زبردستی بند کرا دیا تھا۔بھارتی میڈیا  رپورٹوں کے مطابق، جن دکانوں کو بند کرایا گیا  تھا اس میں مشہور فوڈ چین کے ایف سی بھی شامل تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں