The news is by your side.

Advertisement

تاج محل کے بعد انتہا پسند ہندوؤں کو قطب مینار بھی کھٹکنے لگا، خطرناک مطالبہ

دہلی: تاج محل کے بعد انتہا پسند ہندوؤں کو قطب مینار بھی کھٹکنے لگا ہے، اور وہ اسے مندر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کو بھارت میں انتہا پسند ہندو جماعتوں نے نئی دہلی میں واقع قطب مینار کے سامنے احتجاج کیا، اور جے شری رام کے نعرے لگائے۔

انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمان حکمرانوں کے بنائے گئے ثقافتی ورثے قطب مینار کو وشنو مندر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انتہا پسند ہندو جماعت کے سربراہ بھگوان گوئل نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو میمورنڈم دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ثقافتی مقام قطب مینار جو مسلم حکمراں قطب الدین ایبک نے تعمیر کرایا تھا، دراصل وشنو ٹیمپل تھا۔

ثقافتی ورثے کے مقام جمع ہو کر نعرے بازی کرنے پر پولیس نے یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کے سربراہ جے بھگوان گوئل کو گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔

بی جے پی "تاج محل” کا کون سا راز جاننے عدالت پہنچی ہے؟

بابری مسجد میں مندر کے قیام کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہ صرف مسلم علاقوں کے نام تبدیل کیے بلکہ وہ تاج محل، قطب مینار اور دیگر قدیم عمارتوں اور مساجد کو مندر میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔

ابھی چند دن قبل الہٰ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایودھیہ ضلع کے میڈیا انچارج ڈاکٹر راجنیش سنگھ نے تاج محل میں موجود 20 کمروں کو کھلوانے کے لیے ایک پٹیشن دائر کی ہے جو یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا تاج محل کے ان 20 کمروں میں ہندو مورتیوں اور تاریخی عبارات کو چھپایا تو نہیں گیا ہے؟

Comments

یہ بھی پڑھیں