بھارتی پاسپورٹ چاہیے تو ہندو ہونا پڑے گا، لکھنؤ ریجنل پاسپورٹ افسر کی ناروا شرط -
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی پاسپورٹ چاہیے تو ہندو ہونا پڑے گا، لکھنؤ ریجنل پاسپورٹ افسر کی ناروا شرط

لکھنؤ: بھارت کے کثیر الثقافتی شہر لکھنؤ میں ایک ہندو خاتون کے مسلمان شوہر کے ساتھ ریجنل پاسپورٹ افسر نے بد سلوکی کرتے ہوئے انڈین پاسپورٹ کے لیے ہندو ہونے کی شرط عائد کردی۔

تفصیلات کے مطابق انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک ہندو خاتون تنوی سیٹھ اور ان کے شوہر محمد انس صدیقی نے کہا کہ لکھنؤ کے پاسپورٹ افسر نے ان کے سامنے شرط رکھی کہ پاسپورٹ چاہیے تو ہندو مذہب اپنانا ہوگا۔

جوڑے نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں شادی کیے گیارہ سال ہوچکے ہیں، پاسپورٹ آفس کے اہل کار نے ان سے پھیرے لینے اور گائتری منتر پڑھنے کو کہا۔

ہندو خاتون اور مسلمان شوہر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نئے پاسپورٹ کے حصول اور شوہر کے پاسپورٹ کی توسیع کے لیے اپلائی کیا تھا، تاہم پاسپورٹ جاری نہ ہونے کی وجہ سے انھیں ریجنل آفس جانا پڑا جہاں ان سے مذہبی تعصب برتا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریجنل پاسپورٹ افسر وکاس مشرا نے خاتون کا ہندو نام تبدیل نہ کیے جانے پر بھی غیر ضروری استفسار کیا، افسر کا کہنا تھا کہ ہر لڑکی شادی کے بعد اپنا نام بدل لیتی ہے، تنوی سیٹھ نے  نام کیوں نہیں بدلا۔

تنوی سیٹھ نے کہا کہ ان سے پھیرے لینے اور گائتری منتر پڑھنے کے لیے کہا گیا، تاہم وکاس مشرا نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ان کو دکھائے جانے والے نکاح نامے میں خاتون کا مسلم نام درج تھا اور وہ پاسپورٹ اپنے ہندو نام سے حاصل کرنا چاہ رہی تھیں۔

فیض احمد فیض کی صاحبزادی کو انڈیا سے واپس بھیج دیا گیا


دریں اثنا، پریس کانفرنس کے بعد اس معاملے نے اعلیٰ سطح پر اہمیت اختیار کی، جس پر بد سلوکی کرنے والے افسر کا تبادلہ کردیا گیا اور انھوں نے تنوی سیٹھ اور ان کے مسلمان شوہر سے معافی بھی مانگی۔

واضح رہے کہ بھارت میں مذہبی منافرت کا سلسلہ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے، مسلمانوں کے خلاف گئو کشی کے نام پر پُر تشدد واقعات بھی آئے دن رونما ہو رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں