The news is by your side.

Advertisement

ہندوؤں کی سمادھی میں مدفون مسلمان بزرگ کون تھے؟

گوجرانوالہ کے قصبے نندی پور میں بہتی ایک نہر سے مغرب کی طرف چھوٹا سا راستہ نکلتا ہے۔ اس راستے پر چھے، سات کلو میٹر کا فاصلہ طے کریں تو کوٹ رام داس سے آگے “ٹھکرکے” گاؤں آتا ہے جہاں گوجرانوالہ کی حدود ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں سے سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کا آغاز ہوتا ہے۔

اگر آپ ٹھکرکے گاؤں کا رُخ کریں تو یہاں کے صدیوں پرانے تہذیبی آثار آپ کی توجّہ اپنی جانب کھینچ لیں گے، لیکن یہ عظیم ورثہ ہماری حکومت کی عدم توجہی اور متعلقہ محکموں کی غفلت کے سبب برباد ہورہا ہے۔

یہاں ہندوؤں کی ایک سمادھی شکستہ حالت میں دیکھی جاسکتی ہے جس کے صدر دروازے سے ملحق دیواروں پر اب اُپلے تھوپے جاتے ہیں۔ اس کے چھوٹے چھوٹے کمرے جو گوبر اور گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ کمرے کسی زمانے میں مراقبہ گاہیں ہوا کرتی تھیں۔ اس کی دیواروں پر بنے بیش تر نقش و نگار مٹ چکے ہیں اور رہے سہے نقوش مٹنے کو ہیں۔

سمادھی کی عمارت کے وسط میں ایک بڑا محرابی کمرہ ہے اور اس کے دائیں جانب آگے پیچھے دو چھوٹی چھوٹی محرابی خلوت گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک کی دیواریں انتہائی شکستہ اور ٹوٹنے کو ہیں۔ اسی طرح بائیں طرف موجود محرابوں کے بس آثار ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کی بنیادیں تو موجود ہیں، مگر اس کی عمارت کا ملبا غائب ہے۔ بڑے محرابی کمرے کے عقب میں ایک شکستہ دیوار ہے جس پر دائیں جانب اینٹوں کی مدد سے دو مور بنائے گئے ہیں اور دیوار کے مرکز میں کسی آدمی کی تصویر بنی ہوئی ہے جو یہ تاثر دیتی ہے کہ اس کا سَر کسی ظالم نے اڑا دیا ہے۔

اس عمارت کے آثار دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کسی زمانے میں یہ ایک وسیع و عریض عبادت گاہ رہی ہوگی اور اس کے چہار سمت پھیلے کھیت اس کا آنگن تھے، مگر اب یہ رقبہ سکڑ کر مرکزی عمارت کی مراقبہ گاہوں تک محدود ہوگیا ہے۔ چار دیواری ڈھے چکی ہے اور تمام عمارت خستہ حالت میں ہے۔

باوصفِ تلاشِ بسیار راقم الحروف اس جگہ کی قدیم تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں جان سکا۔ مگر سمادھی کے در و دیوار اور محرابیں مغلیہ طرزِ تعمیر کی چغلی کھاتی ہیں۔

اس سمادھی کی مرکزی محراب سے اندر داخل ہونے پر ایک قبر نظر آئی گی جس پر ایک پھٹی ہوئی سرخ و سبز رنگ کی چادر بھی پڑی ہوئی تھی۔ سرہانے تیل کی بوتل اور چند بجھے ہوئے چراغ پڑے تھے۔ ایک دیوار پر سیلن زدہ کاغذ پر عربی عبارت دیکھی، غور کیا تو درود لکھا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر ذہن میں سوال اٹھا کہ کیا ہندوؤں کی اس سمادھی میں یہ کسی مسلمان کی قبر ہے؟

سمادھی کے کھنڈر میں‌ وہ قبر دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی اور سوچا کہ کسی مقامی شخص سے اس بارے میں پوچھا جائے، لیکن اسی اثنا میں سیر و سیّاحت کے دلدادہ ایک دوست کی فون کال آگئی۔ اتفاق سے وہ بھی یہاں آچکے تھے اور انھوں‌ نے مقامی لوگوں سے اس بارے میں بات بھی کی تھی۔

اس دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ مقامی لوگ اس جگہ کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہاں ایک امیر کبیر ہندو خاندان آباد تھا اور انھوں‌ نے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے یہ عبادت گاہ تعمیر کروائی تھی۔

برّصغیر کی تقسیم کے بعد وہ خاندان ہجرت کرکے بھارت چلا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس عمارت کو تدریسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہ چلا۔ اس کے بعد کسی مسلمان بزرگ نے اس جگہ قیام کیا جنھیں وفات کے بعد یہیں دفنا دیا گیا تھا۔ بعض لوگوں نے ان کی قبر کو زیارت گاہ (مزار) بنانے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔

آج یہ قدیم عمارت اور تہذیبی ورثہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس کے جو آثار باقی ہیں، اگر ان کی مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی تو جلد معدوم ہو جائیں گے۔

(تحریر و تصاویر: انعام کبیر)

Comments

یہ بھی پڑھیں