The news is by your side.

Advertisement

ابوالفضل: اکبرِاعظم کا دانا وزیر یا خوشامدی درباری؟

جن لوگوں کے دماغوں میں نئی روشنی سے اجالا ہو گیا ہے، وہ اس کی تصنیفات کو پڑھ کر یہ لکھتے ہیں کہ ابوالفضل ایشیائی انشا پردازوں میں سب سے بڑا مبالغہ پرداز مصنف تھا۔

اس نے اکبر نامہ اور آئینِ اکبری کے لکھنے میں فارسی کی پرانی لیاقت کو تازہ کیا ہے۔ اس نے خوش بیانی اور یاوہ سرائی کے پردہ میں اکبر کی خوبیاں دکھائی ہیں اور عیب اس طرح چھپائے ہیں کہ جس کے پڑھنے سے ممدوح اور مداح دونوں سے نفرت ہوتی ہے اور دونوں کی ذات و صفات پر بٹا لگتا ہے۔ البتہ بڑا علامہ، عاقل، دانا، مدبر تھا۔ دنیا کے کاموں کے لیے جیسی عقل کی ضرورت ہے وہ اس میں ضرور تھی۔

آزاد کہتا ہے کہ جو کچھ الفاظ و عبارت کے پڑھنے والوں نے کہا یہ بھی ہے، لیکن وہ مجبور تھا۔ کیوں کہ فارسی کا ڈھنگ چھے سو برس سے یہی چلا آتا تھا۔ اس کے ایجادوں نے بہت اصلاح کی ہے اور خرابیوں کو سنبھالا ہے، باوجود اس کے جو زبان کے ماہر ہیں اور رموزِ سخن کے تاڑنے والے ہیں۔ اور کلام کے انداز اور ادائوں کو جانتے اور پہچانتے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کہا اور جس پیرایہ میں کہا، کوئی بات اٹھا نہیں رکھی۔ اصل حقیقت کو لکھ دیا ہے اور انشا پردازی کا آئینہ اوپر رکھ دیا ہے۔ یہ اسی کا کام تھا۔ یہ بھی اسی کا کام تھا کہ سب کچھ کہہ دیا اور جن سے نہ کہنا تھا، وہ کچھ بھی نہ سمجھے اور اب تک بھی نہیں سمجھے۔

خوشامد کی بات کو ہم نہیں مانتے۔ ہر زبان کی تاریخیں موجود ہیں۔ کون سا مؤرخ ہے کہ خوشامد شاہ اور حمایتِ قوم سے پاک ہو۔ وہ اپنے آقا کا ایک نمک حلال وفادار نوکر تھا۔ اسی کے انصاف سے اس کے خاندان کی عزت و آبرو بچی۔ اسی کی حفاظت سے سب کی جانیں بچیں۔ اسی کی بدولت اس کے فضل و کمال نے قدر و قیمت پائی۔ اسی کی قدر دانی سے رکنِ سلطنت ہو گیا۔ اسی کی پرورش سے تصنیفات ہوئیں اور انہوں نے بلکہ خود اس نے صدہا سال کی عمر پائی۔ خوشامد کیا چیز ہے؟ اس کا تو دل عبادت کرتا ہو گا۔ اور جان لوٹ لوٹ کر خاکِ راہ ہوئی جاتی ہو گی۔

اس نے بہت سا ادب ظاہر کیا۔ شکریہ ادا کیا۔ لوگوں نے خوشامد نام رکھا اور خوشامد کی تو تعجب کیا؟ اور گناہ کیا کیا؟ آج کے لوگ اس کی جگہ پر ہوتے تو اس سے ہزار درجہ زیادہ بکواسیں کرتے اور ایسا نہ کر سکتے مگر ان کی وہ قسمت کہاں۔ ہاں ہاں ایک بات ہے، اس نے ہندوستان میں بیٹھ کر ایشیائی علوم اور زبان عربی و فارسی میں یہ کمال پیدا کیاکہ اکبر کا وزیر ہو گیا۔

تم اب انگریزی میں ایسا کمال پیدا کرو کہ سب کو پیچھے ہٹائو اور بادشاہِ وقت کے دربار پر چھا جائو۔ پھر دیکھیں تم کتنے مصنف ہو اور کیا لکھتے ہو۔

میرے دوستو دیکھو! وہ سلطنت کا ایک جزو تھا۔ آج ارکانِ سلطنت نظامِ ملکی کے لیے ہزار طرف سے حکمت عملی اور مصلحتیں کھیلتے ہیں۔ اگر ہر بات میں سچ، واقعیت اور اصلیت پر چلیں اور لکھیں تو ابھی سلطنت درہم برہم ہو جاتی ہے۔


(محمد حسین آزاد کی کتاب دربارِ اکبری میں مشہور درباری ابوالفضل کے بارے میں ایک باب سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں