The news is by your side.

Advertisement

مانکی شریف اور سردار عبدالرّب نشتر

قیام پاکستان کے بعد سردار عبدالرب نشتر پاکستان کی پہلی کابینہ میں شامل ہوئے اور پنجاب کے گورنر رہے۔ آخری ایام میں وہ مسلم لیگ کی صدارت کررہے تھے۔

سردار عبدالرب نشتر نے اپنے سیاسی سفر کے آغاز پر ہی جان لیا تھا کہ ہندو، مسلمانوں کے ساتھ تعصب ختم نہیں کرسکتے اور انھوں‌ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ جلد ہی وہ اپنی فہم و فراست، سیاسی سوجھ بوجھ اور اخلاص کے باعث قائدِ اعظم کے قابل اعتماد رفقا میں شمار ہونے لگے۔

وہ قائد اعظم کے ساتھ اہم ملاقاتوں اور سیاسی میٹنگوں‌ میں‌ شریک ہوتے تھے۔ انھوں‌ نے برصغیر کے مسلمانوں‌ کے محبوب قائد اور بانی پاکستان محمد علی جناح کے متعلق ایک واقعہ کچھ یوں‌ بیان کیا ہے۔

جب ہم مانکی سے رخصت ہورہے تھے تو قائداعظم آگے آگے تھے اور پیر صاحب مانکی شریف سمیت پیر ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ جب قائداعظم موٹر میں بیٹھ گئے تو میں بھی ساتھ بیٹھا اور موٹر روانہ ہوگئی تو میں نے کہا مجھے ہنسی آتی تھی لیکن میں نے ضبط کرلی۔ پوچھا کیوں؟

میں نے کہا’ جب ہم ان پیروں کے پاس جاتے ہیں تو بہت عزت واحترام سے ان کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں لیکن آج تمام پیر آپ کے پیچھے پیچھے آرہے تھے تو مجھے ہنسی آرہی تھی۔

‘ فرمانے لگے۔ ’تمہیں معلوم ہے اور ان کو بھی معلوم ہے کہ میں متقی، پرہیز گار اور زاہد نہیں ہوں۔ میری شکل و صورت زاہدوں کی سی نہیں ہے۔ مغربی لباس پہنتا ہوں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ میرے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو یہ یقین ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق میرے ہاتھ میں محفوظ ہیں اور میں اپنی قوم کو کسی قیمت پر بھی فروخت نہیں کرسکتا۔‘‘

کہتے ہیں‌ شخصیت کردار سے بنتی ہے اور قائدِ اعظم نے اپنے قول و عمل، راست گوئی اور کردار کی مضبوطی ہی سے خود کو قیادت کا اہل ثابت کیا اور دنیا کی تاریخ میں عظیم لیڈر کے طور پر مقام حاصل کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں