The news is by your side.

Advertisement

کاروباری اعتماد میں تاریخی بہتری، سروے رپورٹ جاری

کراچی: اوورسیز انویسٹرز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری(اوآئی سی سی آئی)نے مئی سے جولائی ‏‏2021کے دوران ملک بھر میں کئے گئے اپنے جامع بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) سروے ‏ویو20(‏Wave20‎‏) کے نتائج کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتمادکے اسکور ‏میں گذشتہ سروے ویو 19کے منفی 50فیصدکے مقابلے میں 59فیصدکی ریکارڈ بہتری آئی ہے جواب ‏مثبت 9فیصد ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ مثبت بی سی آئی آخری بار اپریل 2018میں ویو16کے دوران ‏دیکھا گیا تھا۔ ‏

واضح رہے کہ بی سی آئی سروے ہرسال منعقد کیا جاتا ہے جو کاروباری ماحول، مواقعوں اور ‏متعلقہ کاروباری امور کو متاثر کرنے کے بارے میں فرنٹ لائن کاروباری اسٹیک ہولڈرز کی جامع ‏رائے پر مشتمل ہوتا ہے۔اس سروے کے نتائج مرتب کرنے میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران علاقائی، ‏قومی، سیکٹرل اور اداروں کی سطح پر کاروباری ماحول کو بھی مدِّ نظر رکھا گیا ہے نیز اگلے چھ ‏مہینوں میں متوقع کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کے بارے میں جواب دہندگان کی رائے ‏طلب کی گئی ہے۔

یہ سروے ملک کے اُن پانچ بڑے کاروباری شہروں میں منعقد کیا گیا جو پاکستان کے جی ڈی پی ‏میں 80فیصد حصہ شیئرکرتے ہیں۔ سروے میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد کے ‏اہم مراکز کو فوکس کیا گیا۔سروے کے رائے دہندگان میں 40فیصد کا تعلق مینوفیکچرنگ،35فیصد ‏کا تعلق خدمات اور25فیصدکا تعلق ریٹیلرز و ہول سیلرز کے شعبے سے تھا۔

عمران خان حکومت کی معاشی میدان میں بڑی کامیابی

حالیہ سروے میں ملک میں کاروباری برادری کے اعتماد میں پچھلے سروے کے منفی سے مثبت ‏میں تبدیل ہونے کی بڑی وجہ مینوفیکچرنگ، ‏
خدمات اور ریٹیل و ہول سیل کے شعبوں میں تاریخی اضافہ تھا۔ پہلے دو میں 65فیصد اضافہ ‏دیکھنے میں آیا(مینوفیکچرنگ کے شعبے میں منفی 48سے مثبت 17فیصد اور خدمات کے شعبے ‏میں منفی 59سے مثبت 6فیصد)جبکہ ریٹیل و ہول سیل کے شعبے میں 44فیصد (منفی 44سے ‏‏0فیصد) اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لاک ڈاؤن کی پابندیاں ہٹنے سے مینوفیکچرنگ کا شعبہ اپنے ‏‏100فیصد پیداواری صلاحیت پر واپس آگیا ہے اور اب وہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی اپنے مصنوعات ‏فروخت کرنے کے قابل ہوگئے ہیں جس سے تمام کاروباری شعبوں پر مثبت اثرات پڑے ‏ہیں۔کاروباری اوقات کم ہونے کی وجہ سے ریٹیلرز اور ہول سیلرز بڑے پیمانے پر کرونا کی ‏پابندیوں سے متاثر ہوئے جس کے نتیجے میں آمدنی، نقد بہاؤاور دیگر مسائل پیدا ہوئے۔ اس شعبے ‏سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماننا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں فروخت، منافع اور کیش فلو مزید بہتر ‏ہوگا۔

بہتر بی سی آئی انڈیکس پر تبصرہ کرتے ہوئے اوآئی سی سی آئی کے صدر عرفان صدیقی نے کہا ‏کہ بی سی آئی سروے کے نتائج غیر ملکی سرمایہ کاروں سمیت کاروباری اعتماد میں بہتری کی ‏نشاندہی کرتے ہیں۔ بہتر ایکسچینج ریٹ، تیز افراطِِ زر، شرح سود میں جزوی کمی کی وجہ سے ‏بڑے اقتصادی اشاریوں کو چیلنج کرنے کے باوجودگذشتہ ویو19میں مایوسی کے برعکس بی سی ‏آئی ویو20سروے کے نتائج کاروباری برادری کے آگے بڑھنے کی عکاسی کرتے ہیں۔اس امید اور ‏جذبات میں تبدیلی کی اہم وجہ کاروباری برادری کا مستقبل کے بارے میں مضبوط تاثر ہے۔فعال ‏معاشی اور سماجی پالیسی اقدامات کے ذریعے حکام کی طرف سے ویکسین کے اجراء کی حمایت ‏کی وجہ سے حکومت اہم معاشی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب دکھائی ‏دیتی ہے۔

مالی بجٹ 2021-22کاروباری طبقے کیلئے ہٹ ثابت ہواکیونکہ بی سی آئی کا اسکور مالی بجٹ کے ‏بعد نمایاں طور پر زیادہ تھا۔سروے کے رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ پالیسیاں زیادہ شفاف، ‏مستقل او رمتوقع ہیں اوروہ اگلے چھ ماہ میں اپنے کاروبارسے متعلقہ کے پی آئیزمیں بہتری کی ‏توقع رکھتے ہیں۔

ویو20کاروباری اعتماد اسکور میں بڑی تبدیلی کے اہم محرک قوت جواب دہندگان کے اپنے شہر کی ‏کاروباری صورتحال(+21فیصد)، صنعت کاروباری صورتحال(+19فیصد)کے حوالے سے اگلے چھ ‏مہینوں کیلئے امید میں نمایاں اضافہ ہے۔ کاروباری صورتحال(+20فیصد)، متوقع فروخت کے حجم ‏میں اضافہ(+20فیصد)،منافع میں اضافہ(+22فیصد)اور سرمایہ کاری میں اضافہ(+19فیصد)۔

اوآئی سی سی آئی کے ممبران سرکردہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے جذبات جنہیں اس سروے میں ‏شامل کیا گیا ہے نے بھی اس کاروباری تبدیلی سے فائدہ اٹھایا ہے اور 108فیصد بہتری دیکھی ہے، ‏ویو 19میں 74فیصد منفی سے، تازہ ترین بی سی آئی ویو20 میں 34فیصدمثبت، مجموعی طور پر ‏ملک بھر میں 9فیصد کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔

سروے کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرنے والے جواب دہندگان پر تبصرہ کرتے ہوئے اوآئی سی سی ‏آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم نے کہاکہ سروے میں کاروباری ترقی کیلئے تین بڑے خطرات ‏کی نشاندہی کی گئی ہے، کرپشن(67فیصد)، غیر مستحکم توانائی کے اخراجات(66فیصد) اور ‏کرنسی کی قدر میں کمی (60فیصد)جو ممکنہ طور پر پاکستان میں کاروباری نمو کو سست کرسکتا ‏ہے۔سروے کے دس میں سے نو جواب دہندگان کا خیال ہے کہ کووڈ نے روزانہ کی بنیاد پر ‏کاروباری سرگرمیوں کو مشکل بنادیا ہے۔

سروے کے جواب دہندگان نے اگلے چھ مہینوں میں 25فیصد(ویو 19میں منفی 35فیصد)کاروباری ‏کاموں میں توسیع39فیصد(ویو19میں 12فیصد)نئی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی اور12فیصدجواب ‏دہندگان کی توقع کے مسلسل امید کا اظہار کیا(ویو19 میں منفی 31فیصد)نے اپنے متعلقہ ‏کاروبارمیں روزگارکے منصوبوں کی نشاندہی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں