The news is by your side.

Advertisement

باختر جہاں وسط ایشیا سے آنے والوں نے پہلا پڑاؤ ڈالا

قدیم ایشیائی سلطنت باختر (Bactria) آج افغانستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے علاقوں میں تقسیم ہے۔

معلوم تاریخ کے مطابق سکندرِاعظم کے زیرِ نگیں آنے کے بعد یہ علاقہ کئی نسلوں تک یونانیوں کے زیرِ اثر رہا۔ یہاں جو آزاد یونانی سلطنت قائم ہوئی تھی، اس کا خاتمہ ایک خانہ بدوش قبیلے کے ہاتھوں ہوا۔ باختر کا دارُالسلطنت شہر بکترا (بلخ) تھا جو آج افغانستان کا حصّہ ہے۔

اس سلطنت کا نام یونانی لفظ سے ماخوذ تھا جو فارسی زبان میں باختر مشہور ہوا۔ یہ قدیم تاریخی علاقہ جو آمو دریا کے جنوب میں اور دریائے سندھ (انڈس) کے مغرب میں ہے، ایرانی سلطنت کی مشرقی حدود پر واقع تھا جو موجودہ افغانستان، تاجکستان، ترکمانستان اور پاکستان کے علاقوں پر مشتمل تھا۔

وسط ایشیا میں تہذیب کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہاں آباد خاندانوں کو نسلِ انسانی کا ابتدائی مسکن شمار کیا جاتا ہے۔ جو بعد میں میل جول اور سماجی تعلق سے گروہوں اور قبیلوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے، اور ارد گرد کے علاقوں میں نقل مکانی کرتے رہے۔

باختر تہذیب آمو دریا کی انہی گم کردہ تہذیبوں میں سے ہے جس کے باقیات مذکورہ علاقوں، بالخصوص تاجکستان اور افغانستان ميں آج بھی موجود ہیں۔ افغانسان میں بلخ کا علاقہ اسی باختر تہذیب کی نشانی ہے۔ پارسی مذہب کے بانی زرتشت کی پیدائش بھی اسے علاقے میں ہوئی۔ یہ کبھی زرتشتی رہا پھر بدھ مت اور بالآخر خلافتِ راشدہ اور اموی دور میں یہاں اسلام پھیلا۔

باختر وسط ایشیا سے آنے والے قبائل کا پہلا پڑاؤ تھا۔ اسے کئی قبائل اور اقوام نے اپنایا اور حکومت قائم کی اور لڑائیوں میں فتح و شکست کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن
باختر زرتشتوں کا مقدس مقام ضرور رہا ہے۔ عربوں کی آمد کے وقت یہ شہر بدھ مذہب کا مرکز تھا۔ یہاں آنے والے اکثر قبائل نے اس زمانے میں بدھ مذہب قبول کر لیا تھا۔ آج یہ عظیم شہر ایک قبضے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے وسیع و عریض کھنڈر اس کے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔

(مؤلف محسن علی)

Comments

یہ بھی پڑھیں