جمعرات, ستمبر 10, 2026
اشتہار

بغداد: اہلِ علم و فن کا ملجا و ماویٰ

اشتہار

حیرت انگیز

بغداد کی بِنا ہارون الرشید کے دادا منصور نے ڈالی تھی اور اسے اپنا دارالخلافہ بنایا تھا۔ اسی کے عہد میں بغداد نے ایک عظیم الشان شہر کی حیثیت حاصل کر لی تھی ۔ لیکن جو شان و شوکت اور عروج اس شہر کو ہارون الرشید کے زمانے میں حاصل ہوا۔ وہ نہ اسے پہلے حاصل ہوا، اور نہ اسے پہلے حاصل تھا اور نہ ماسوا مامون کے آئندہ نصیب ہوا۔

عمارات کے لحاظ سے بغداد اس وقت دنیا کے تمام شہروں سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ یہاں بڑے بڑے محلات تعمیر کئے گئے تھے جن میں سے بعض پر کروڑوں دینار خرچ ہوئے تھے۔ انجینئروں نے ان کے بنانے میں قواعد، مضبوطی اور محل وقوع کا پورا پورا خیال رکھا تھا۔ بغداد کی مشرقی جانب کے محلات کو مغربی جانب کے محلات سے ایک پل کے ذریعے سے ملایا گیا تھا۔ مشرقی جانب برامکہ کے محلات، بڑے بڑے بازار، بلند و بالا مساجد اور حمام بنے ہوئے تھے اور مغربی جانب خلیفہ کے محلات واقع تھے جن کی خوبصورتی اور وسعت دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ بغداد کے ارد گرد جو بستیاں بنائی گئی تھیں، عمارات کی وسعت کی وجہ سے وہ آپس میں مل گئیں تھیں۔ یہ سب علاقہ بغداد ہی میں شمار ہوتا تھا۔ایسی بستیاں دجلہ کے دونوں جانب چالیس کی تعداد میں تھیں۔

بغداد کی شان و شوکت کا حال سن کر لوگ سینکڑوں میل سے اس کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ یہاں کی آبادی لاکھوں تک پہنچ گئی تھی اور شہر نے ایک زبردست تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔ خراسان، ماوراء النہر، ہندوستان، چین، شام اور جزیرے سے تجارتی قافلے کثرت سے یہاں آتے رہتے تھے۔ راستے پر امن تھے اور قافلوں کو راہ میں ڈاکہ زنی کا مطلق خطرہ نہ ہوتا تھا۔ اس وقت دولت و ثروت کے لحاظ سے بھی کوئی شہر بغداد کا
ہم پلہ نہ تھا۔ سلطنتِ اسلامیہ کے تمام صوبوں کا خراج جو صوبوں کی ضرورت سے بچ جاتا تھا۔ جمع ہو کر خلیفہ کے پاس بغداد میں آتا تھا۔ اس خراج کا اندازہ مؤرخین نے چالیس کروڑ درہم لگایا ہے۔ یہ سب مال بیت المال میں داخل ہوتا تھا۔ جہاں سے خلیفہ اپنے وزیروں، وظیفہ خواروں اور خدام کو تنخواہیں دیتا تھا۔ باقی مال خلیفہ اپنی مرضی سے جہاں چاہتا خرچ کرتا تھا۔

سخاوت کے لحاظ سے خلیفہ ہارون الرشید دوسرے سب خلفائے بنی عباسی سے ممتاز تھا۔ قصیدہ خوانوں، شاعروں، غریبوں اور حاجت مندوں پر بے دریغ مال خرچ کرتا تھا۔ اس کے نقش قدم پر اس کے امیر و وزیر، رئیس اور لشکر کے سردار سبھی چلتے تھے اور سخاوت کا بازار پورے طور پر گرم تھا۔ تاریخ کے صفحات اس زمانے کی سخاوت کے قصوں سے پُر ہیں۔ اس طرح نہ صرف غربا کی زندگی بڑے آرام سے گزرتی تھی، بلکہ یہ عظیم الشان فائدہ بھی حاصل ہوتا تھا کہ بے شمار مال لوگوں کے ہاتھوں میں چکر لگاتا رہتا تھا جس کی وجہ سے تجارت میں بڑی ترقی ہوگئی تھی۔ لوگوں کی ضروریات بخوبی پوری ہو جاتی تھیں۔ دولت کا ایک سیلاب تھا۔ جو ہارون کے عہد میں بغداد میں بہہ رہا تھا اور ہر چھوٹا بڑا اس میں سے حصہ لے رہا تھا۔ دولت و ثروت کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کی طبیعتیں لہو و لعب کی طرف مائل ہو گئیں اور ہر طرف عیش و نشاط اور راگ رنگ کی محفلیں منعقد ہونے لگیں۔

علم کے لحاظ سے بھی بغداد تمام دولتِ اسلامیہ کا منبع اور طلابِ علم کا مرکز بن گیا تھا۔ ہر طرف سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھانے کی غرض سے کشاں کشاں بغداد کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ اس نے علومِ دنیویہ اور علومِ دینویہ دونوں قسم کے علوم کی ایک زبردست یو نیورسٹی کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔ یہاں بڑے بڑے محدثین، قراء، فقہا، لغت، آداب العرب اور صرف و نحو کے امام موجود تھے، جنہوں نے بڑی بڑی مسجدوں میں درس کے سلسلے قائم کر رکھے تھے، ان مدارس میں ہزاروں لوگ علم حاصل کرتے تھے۔ جب تک کوئی شخص بغداد آکر علم حاصل نہ کرتا تھا اور یہاں کے علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہ کرتا تھا۔ اس وقت تک اسے نہ شہرت نصیب ہوتی تھی اور نہ ہی اسے علماء کے زمرے میں شمار کیا جاتا تھا۔

بغداد کے تمام علماء بڑے آرام اور فراغت کی زندگی بسر کرتے تھے، کیوں کہ ہارون اور برامکہ نے ان کے لئے بہت بڑے بڑے گزارے مقرر کر رکھے تھے۔ ہارون علماء کی بے حد توقیر و تعظیم کرتا تھا اور انہیں بیش قرار انعام و اکرام سے نوازتا رہتا تھا۔ اس کا ثبوت مندرجہ ذیل واقعہ سے بہ آسانی مل سکتا ہے۔

ابو معاویہ ضریہ، جو اپنے وقت کے بڑے جلیل القدر عالم تھے، بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے ہارون کے ساتھ کھانا کھایا۔ کھانا کھانے سے پہلے کسی شخص نے میرے ہا تھ دھلائے لیکن مجھے اندھیرے کی وجہ سے معلوم نہ ہو سکا کہ کس شخص نے میرے ہاتھ دھلائے۔ مجھے خیال تھا کہ کسی غلام نے دھلائے ہوں گے۔ جب کھانے کا سلسلہ ختم ہو چکا تو ہارون نے مجھ سے پوچھا۔

اے ابو معاویہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے ہاتھ کسی نے دھلائے تھے؟

میں نے جواب دیا، امیر المؤمنین! مجھے تو پتہ نہیں۔

ہارون نے کہا، میں نے دھلائے تھے۔

میں نے پوچھا، امیر المؤمنین ! کیا آپ نے یہ کام علم کی تعظیم کی خاطر کیا؟

ہارون نے جواب دیا، ہاں۔

ہارون علوم و فنون کا بے حد دلدادہ تھا اور جس شخص کے متعلق سنتا کہ اسے علم و فنون میں یدِ طولیٰ حاصل ہے فوراً اسے اپنے دربار میں بلا لیتا اور بیش قیمت تنخواہ مقرر کر دیتا تھا۔
جب اس نے بلند و بالا اور رفیع الشان محلّات بنانے کا ارادہ کیا تو ملک کے ہر حصے سے چن چن کر اصحابِ فن بلائے جن کے سپرد محلّات کی تزئین، بیل بوٹے اور نقش و نگار بنانے کا کام کیا۔

اسے راگ سے بے حد دلچسپی تھی۔ اس غرض کے لیے اس نے ملک کے بہترین مغنیوں کی خدمات حاصل کیں اور بے شمار رقم ان پر صرف کی۔ اسے اشعار سننے کا بھی بے حد شوق تھا۔ اس غرض کے لیے اس نے مملکت کے بہترین شاعروں کو اپنے دربار میں جمع کر لیا اور لاکھوں درہم ان کو انعام و اکرام اور تنخواہ دینے میں خرچ کیے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کے زمانے میں عربی شاعری کو بے حد عروج حاصل ہوا۔ اس نے اپنے گرد فلاسفہ، قضاة، علماء اور منطقیوں کو جمع کیا جن سے وہ اکثر بحث و مباحثہ اور علمی بات چیت کیا کرتا تھا اور اُن کی تنخواہوں پر بے شمار رقم خرچ کرتا تھا۔ بیسیوں اطباء کو اس نے اپنے دربار میں بلایا اور بعض کو تو ہندوستان سے منگوایا۔ اس طرح بغداد اہلِ علم و فن کا ملجا و ماویٰ اور علوم و فنون کا مرکز بن گیا۔

(بیروت کے اعلیٰ پائے کے ادیب، بلند پایہ مؤرخ اور متعدد کتب کے مصنّف کے طور پر عمر ابوالنصر کا نام تاریخ میں‌ محفوظ ہے اور ان کی کتاب الہارون ایک مشہور تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ شیخ محمد احمد پانی پتی نے کیا ہے، یہ پارہ اسی کتاب سے لیا گیا ہے)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں