1600ء سے 1757ء تک ایسٹ انڈیا کمپنی مختلف اشیاء اور قیمتی دھاتیں ہندوستان لاتی تھی اور ان کے عوض ہندوستان کے مسالے پارچہ جات کو بیرونی ممالک میں فروخت کرتی تھی۔ اسی لئے وہ برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں ہندوستانی اشیاء کے لئے نئے نئے بازاروں کی تلاش میں رہا کرتی تھی۔ اس عمل سے ہندوستان کی بنائی ہوئی پیداوار کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی، اس لئے ہندوستانی حکمرانوں نے کمپنی کی حوصلہ افزائی کی اور اسے ہندوستان کے مختلف حصوں میں اپنی فیکٹریاں قائم کرنے کی اجازت دے دی۔
یہی وجہ تھی کہ برطانیہ کے اشیاء بنانے والے لوگ ہندوستانی کپڑے کی مقبولیت پر حسد کرنے لگ گئے اور انہوں نے اپنی حکومت پر زور دیا کہ وہ انگلینڈ میں ہندوستانی اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کر دے۔ 1730ء میں اس سلسلہ میں ایسے قوانین پاس کئے گئے جو ہندوستانی کپڑوں کے استعمال پر پابندی عائد کرتے تھے، اس کے ساتھ ہندوستان سے برطانیہ لائی جانے والی اشیاء پر زبردست محصول لگا دیا گیا۔ برطانیہ کے علاوہ دوسرے ملکوں نے بھی یہی رخ اختیار کیا۔ تاہم ہندوستانی ریشمی اور سادہ کپڑوں کی کھپت بیرونی ممالک کے بازاروں میں اس وقت تک جاری رہی جب تک کہ انگریز کپڑا سازی کی صنعت ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر 18 ویں صدی میں قائم نہ ہو گئی۔
1757ء میں جنگِ پلاسی کے بعد ہندوستان کے ساتھ کمپنی کے تعلقات میں تبدیلی رونما ہوئی۔ اس نے بنگال کی اپنی آمدنی کو ہندوستانی اشیاء کی برآمد کرنے میں استعمال کیا۔ کمپنی نے بنگال کے بُنکروں کو اپنی شرائط منوانے کے لئے سیاسی طاقت کا استعمال کیا جس سے انہیں اپنی چیزوں کو ستے داموں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو نا پڑا۔ اس سے انہیں خاصا نقصان ہوا۔ کمپنی نے مزدوروں کو بہت کم اجرت پر اپنے کام کرنے پر مجبور کیا اور ہندوستانی تاجروں کے لئے ان کے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ کمپنی کے ملازمین نے بنگال کے بُنکروں سے اپنے کچے مال کے لئے بہت زیادہ قیمتیں وصول کیں اس طرح بُنکر خرید و فروخت دونوں معاملات میں نقصان میں رہے۔ انگلستان میں ہندوستانی کپڑے کے داخلے کے وقت اس پر بہت زیادہ محصول وصول کیا جاتا تھا۔ 1813ء میں ہندوستانی دستکاری کو بھی زبردست دھکا لگا، جب اس کے لئے نہ صرف یہ کہ بیرونی ممالک کے بازار بند ہو گئے بلکہ خود ہندوستان میں بھی ان کے لئے کوئی جگہ نہ رہی۔ برطانیہ کے صنعتی انقلاب نے وہاں کی معیشت اور ہندوستان کے ساتھ اس کے تعلقات میں بھی تبدیلی پیدا کر دی جس کے تحت برطانوی صنعت میں توسیع ہوئی اور جدید مشینوں، کارخانوں کے نئے نظام اور سرمایہ داری کی بنیاد پر اس صنعت میں زبر دست ترقی ہوئی۔
دراصل پچھلی صدیوں میں برطانیہ نے بہت سے غیر ملکی بازاروں کو اپنی اجارہ داری کا حصہ بنا لیا جس میں جنگ اور نو آبادیاتی نظام اصل بنیاد تھے۔ برطانیہ نے پہلے ہی تجارت کے سلسلہ میں نو آبادیاتی نظام قائم کر دیا تھا جس سے صنعتی انقلاب کو تقویت ملی اور خود انقلاب نے بھی نو آبادیاتی نظام کو تقویت پہنچائی۔
(پروفیسر ظفر احمد نظامی کی علمی و تحقیقی کتاب ‘تاریخِ ہند، عہد جدید’ سے اقتباس)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


