The news is by your side.

Advertisement

اپنے 16 بیٹوں سمیت مارے جانے والا سارنگ کون تھا؟

سلطان سارنگ تھا کون، یہ جاننے کے لیے یاد رکھنا ہو گا کہ جب ہمایوں کو شیر شاہ سوری کے ہاتھوں چونسہ اور قنوج کی لڑائیوں میں شکست ہوئی تو اس نے اپنے بھائی، کامران سے مدد چاہی۔ کامران اس وقت پنجاب کا گورنر تھا۔

چناں چہ ہمایوں نے اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ پنجاب کا رخ کیا تاکہ وہ کامران کی مدد سے شیر شاہ سوری کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کر سکے، لیکن کامران نے اس کی مدد سے صاف انکار کر دیا۔ اس طرف سے مایوس ہو کر ہمایوں نے دان گلی کے مقام پر سلطان سارنگ سے رجوع کیا جس نے اس آڑے وقت میں بصدقِ دل ہمایوں کی ہر طرح کی مدد کا وعدہ کیا۔

اس اثنا میں شیر شاہ سوری کی فوجیں ہمایوں کا تعاقب کرتے ہوئے کسی بڑی مزاحمت کے بغیر لاہور پر قابض ہوچکی تھیں اور کامران اس حملے کی تاب نہ لا کر کابل کی طرف بھاگ چکا تھا، لہٰذا ہمایوں نے خوشاب کے والی، حسین سلطان سے فوجی مدد حاصل کرنا چاہی۔ جب شیر شاہ سوری کو علم ہوا تو اس کی فوج نے خوشاب پر دھاوا بول دیا چناں چہ ہمایوں مجبوراً اُچ اور بھکر سے ہوتا ہوا سندھ کا صحرا عبور کر کے ایران چلا گیا۔

جب شیر شاہ سوری کو پتا چلا کہ ہمایوں اور کامران، دونوں ملک سے فرار ہو گئے ہیں تو اس نے اطمینان کا سانس لیا اور اپنے ہمراہیوں کو انعام و اکرام سے نوازا اور ان میں سے بعض کو مقبوضہ علاقے میں جاگیریں بھی عطا کیں۔

اب اس نے اپنا ایک ایلچی سلطان سارنگ کے پاس بھیجا تاکہ اسے اپنے ساتھ ملایا جاسکے۔ اس تعاون کے بدلے شیر شاہ سوری نے سارا پنجاب اس کے سپرد کرنے کی پیش کش بھی کی، لیکن سلطان سارنگ نے ہمایوں کے ساتھ اپنے وعدے کی وجہ سے ایلچی کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا۔

شیر شاہ سوری سلطان سارنگ کے اس رویے سے بے حد ناراض ہوا اور اس نے اپنے جرنیل خواص خان کی کمان میں ایک بڑا لشکر اسے سبق سکھانے کے لیے بھیجا۔ سلطان نے بھی مقابلے کے لیے اپنی فوجیں تیار کیں۔ 1546ء میں روات کے مقام پر دونوں فوجوں کے درمیان خوں ریز جنگ ہوئی جس میں بالآخر سلطان کو شکست ہوئی اور وہ اپنے سولہ بیٹوں سمیت میدان جنگ میں دادِ شجاعت دیتا ہوا مارا گیا۔

ان ہی دنوں شیر شاہ سوری کو اطلاع ملی کہ بنگال کے گورنر خضر خان ببرک نے بغاوت کر دی ہے چناں چہ وہ خود تو یہ بغاوت فرو کرنے کے لیے اودھ چلا گیا اور خواص خان کو پیچھے چھوڑ کر اسے جہلم سے کوئی دس میل شمال مغرب کی طرف گکھڑوں کی روک تھام کے لیے ایک قلعہ بنانے کا حکم دیا جو اب قلعہ رہتاس کے نام سے مشہور ہے۔

ہمایوں اپنی طویل جلاوطنی کے بعد واپس آیا تو اس نے پھروالہ کے مقام پر سلطان سارنگ کے بیٹے، آدم خان کے مہمان کی حیثیت سے قیام کیا۔ ہمایوں نے اس کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کی تجدید کی، فوج کو منظّم کیا اور بالآخر اپنی کھوئی ہوئی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے میں کام یاب ہو گیا۔

آدم خان نے پوٹھوہار کا حاکم بنتے ہی سلطان سارنگ کی قبر پر ایک عالی شان مقبرہ تعمیر کیا۔ مقبرے کی تعمیر میں سنگِ مرمر اور دوسرے قیمتی پتھر استعمال کیے گئے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے یہ سارے پتھر اکھاڑ کر مقبرے کو کس مپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ہے۔

ہمایوں اور سلطان سارنگ نے جس دوستی کی بنیاد رکھی تھی وہ اکبر اور اس کے بعد بھی قائم رہی تاوقتیکہ خود مغلیہ سلطنت طوائف الملوکی کا شکار ہو گئی۔

(محمد داؤد طاہر کے مضمون سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں