The news is by your side.

Advertisement

ہچ ہائیکنگ” کرنے والی پاکستان کی پہلی خانہ بدوش لڑکی ماریہ سومرو

کراچی : سیر وتفریح کے لیے سفر کرنے میں نہ صرف مزا آتا ہے بلکہ ایسا کرنے سے جسمانی اور ذہنی صحت کو فائدہ بھی پہنچتا ہے یہ ایک ایسا شوق ہے جس کو پورا کرنے کیلئے بہت سی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خواہ آپ کسی بھی شہر میں گھوم پھر رہے ہوں، دلکش نظاروں سے محظوظ ہو رہے ہوں یا کسی گاؤں کی صاف فضا میں سانس لے رہے ہوں، یہ سب مناظر آپ کی زندگی کی یادگار بن جائیں گے۔

اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کیلئے بحالت مجبوری کسی بھی گاڑی یا موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر جانا شاید ہر کسی نے کیا ہو، اسے ہچ ہائیکنگ بھی کہا جاتا ہے۔

جب سے انسان نے سفر شروع کیا ہے، تب سے ہی ہچ ہائیکنگ بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے لیکن جدید اصطلاح میں ہچ ہائیکنگ ایسے سفر کو کہا جاتا ہے جس میں مسافر انجان لوگوں کی گاڑی میں لفٹ لے کر سفر کرتے ہیں۔

ایک ایسی ہی باہمت لڑکی کراچی کی ماریہ سومرو بھی ہیں جنہیں پاکستان کی پہلی ہچ ہائیکر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے دو سال قبل 2020میں ہچ ہائکنگ شروع کی، میراتعلق بینکنگ کے شعبے سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ہچ ہائکنگ کا باقاعدہ آغاز اسلام آباد سے کیا، کراچی سے اسلام آباد بذریعہ ٹرین گئی تھی اور پہلے مرحلے میں دو ماہ کے عرصے میں پورا کے پی کے کور کیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے ترکی میں بھی ہچ ہائکنگ کی ہے اس کا تجربہ بھی بہت اچھا تھا لیکن اس میں ایک برے تجربے کا بھی سامنا ہوا، ایک بار لفٹ کے دوران ڈرائیور نے گاڑی کو سنسان اور ویران مقام کی جانب لے جانے کی کوشش کی جسے میں نے ہمت کرکے ناکام بنا دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں