The news is by your side.

Advertisement

چیمئنز ٹرافی: فیس نہیں ملے گی تو کھیل پر توجہ نہیں دے سکتے، کھلاڑی

ایمسٹرڈیم: ہالینڈ میں موجود قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی کی وجہ پی ایچ ایف کی جانب سے ڈیلی الاؤنس اور فیس نہ ملنے کو قرار دے دیا، کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ جیبیں خالی ہوں گی تو کارکردگی پر توجہ نہیں دے سکتے۔

تفصیلات کے مطابق قومی ہاکی ٹیم اس وقت چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے ہالینڈ میں موجود ہے، اب تک ہونے والے میچز میں کوئی کھلاڑی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا جس کے باعث ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا گراف نیچے کی طرف جارہا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی انتظامیہ نے دورہ ہالینڈ میں شاہ خرچیوں کے لیے اکاؤنٹس کے منہ کھول دیے، سیر و تفریح کے لیے تو فنڈز موجود ہیں مگر کھلاڑیوں کی فیس دینے سے پی ایچ ایف نے معذرت کرلی۔

مزید پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ: آسٹریلیا نے پاکستان کو 2-1 سے ہرادیا

گرین شرٹس کی چیمپئنز ٹرافی میں شکست کی وجوہات سامنے آگئیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑی تاحال ڈیلی الاونس سے محروم ہیں، آسٹریا کے خلاف کھیلی جانے والی سیریز کے الاونس بھی تاحال جاری نہیں کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لگنے والے کیمپس کے ڈیلی الاونس بھی کھلاڑیوں کو نہیں دیے گئے،  جیبیں خالی ہوں تو کھلاڑی کا ذہنی دباؤ قدرتی امر ہے۔

پی ایچ ایف نے کھلاڑیوں کو فی کس روزانہ ایک سو بچاس امریکی ڈالر الاؤنس ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا، ایمسٹرڈیم میں لگنے والے کیمپ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو  یومیہ دس ڈالر کی قلیل رقم بھی نہ مل سکی ۔

یہ بھی پڑھیں: ہاکی چیمپئنز ٹرافی: کھلاڑی سڑک پر لگے نل سے پانی بھرنے پر مجبور

کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کا سامنا پہلے بھی کرتے رہے ہیں، کئی سال بیت گئے سابقہ مینجمنٹ سے لے کر اب تک ہمارا سینٹرل کنٹریکٹ فعال نہ ہوسکا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اطلاع سامنے آئی تھی کہ  پی ایچ ایف کی نااہلی کے باعث ہالینڈ میں موجود کھلاڑیوں کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں کیا جارہا اور وہ سڑک پر لگے نل سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔

قومی ٹیم کی طرف سے چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ہالینڈ میں قدرتی طور پر صاف پانی کی سہولت میسر ہے اور ایونٹ میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں کے کھلاڑی بھی گراؤنڈ کے اطراف سے عام پانی استعمال کررہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں