سڈنی (7 فروری 2026): پرو لیگ کے لیے آسٹریلیا پہنچنے والی پاکستان ہاکی ٹیم سڈنی پہنچتے ہی مشکلات میں پھنس گئی۔
پاکستان ہاکی ٹیم پرو لیگ کے لیے آسٹریلیا پہنچ گئی ہے لیکن سڈنی پہنچتے ہی ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دیارِ غیر پہنچنے کے بعد رات 10 بجے سے ٹیم سڑکوں پر گھومتی رہی، کافی دیر بعد پاکستانی کمیونٹی نے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مینجمنٹ کی جانب سے ہوبارٹ کے نجی ہوٹل میں بکنگ کا دعویٰ جھوٹا نکلا۔ ہوٹل پہنچنے کے بعد ٹیم کو دو سے تین گھنٹے لابی میں انتظار کرایا گیا، جس پر ہوٹل حکام نے کہا کہ آپ کی بکنگ نہیں ہے اور ارجنٹ بکنگ کے لیے ڈبل چارجز ادا کرنے ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں کو ایک عام سے گھر میں ٹھہرایا گیا ہے جہاں ایک کمرے میں 3 سے 5 کھلاڑی مقیم ہیں۔ کچھ کمروں میں کھلاڑی گدے بچھا کر سو رہے ہیں جبکہ کوچنگ اور دیگر اسٹاف کو الگ گھر میں ٹھہرایا گیا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو پی ایس بی سے ملنے والی رقم میں پی ایچ ایف نے کٹوتی کر ڈالی۔ فی کھلاڑی کو 4 لاکھ 54 ہزار روپے ملے تھے، اس رقم میں سے پی ایچ ایف مینجمنٹ نے 90 ہزار روپے کی کٹوتی کر لی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اپنا پہلا میچ 10 فروری کو آسٹریلیا، 11 فروری کو جرمنی، 13 فروری کو آسٹریلیا جبکہ 14 فروری کو جرمنی کے خلاف کھیلے گا۔
علی حسن اے آروائی نیوز سے اسپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ ہیں اور کھیلوں کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں


