The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں چاقو زنی کے واقعات کو روکنے کیلئے سب کو متحد ہونا پڑے گا، ساجد جاوید

لندن : برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ چاقوزنی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’مذکورہ واقعات کو روکنے کےلیے ہمیں متحد ہونا پڑے گا‘۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے برطانیہ میں باالخصوص دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے چاقو زنی اور پُر تشدد واقعات میں نوجوانوں کی موت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت سے محازوں پر چاقو زنی کے خلاف کارروائی کررہے ہیں‘۔

برطانوی وزیر داخلہ نے لندن پولیس چیف سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’پورے ملک میں نوجوانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے، اسے جاری نہیں رہنا چاہیے‘۔

ساجد جاوید نے لندن پولیس چیف سے ہفتے کے روز دو نوجوانوں کی چاقو زنی کے واقعات میں بہیمانہ ہلاکت کے بعد ملاقات کی تھی۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد ایک روز قبل دارالحکومت لندن کے مشرقی حصّے میں 17 سالہ دوشیزہ جوڈی چیزنی کو پے در پے وار کرکے قتل کردیا تھا جبکہ گریٹ مانچسٹر میں 17 سالہ نوجوان یوسف غالب مکّی کو چاقو کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔

پولیس نے یوسف مکی کے قتل میں ملوث کے ہونے کے شبے میں دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جو تاحال پولیس کی گرفت میں ہے۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ جوڈی کو سیاہ فام شخص نے قتل کیا تھا تاہم قتل کی مزید تحقیق ابھی جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جوڈی کے اہلخانہ اپنے بیٹی کے قتل کی خبر سن پر صدمے میں مبتلا ہوگئے جبکہ والد کا کہنا تھا کہ ’چاقو زنی کی یہ واردات انتہائی اشتعال انگیز ہے۔

مزید پڑھیں : مانچسٹر میں چاقو بردار شخص کا حملہ، تین افراد زخمی

یاد رہے کہ رواں برس کے آغاز پر برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع وکٹوریہ ریلوے اسٹیشن پر مسلح شخص نے شہریوں کو چاقو کے وار سے زخمی کردیا تھا، چاقو زنی کی واردات میں زخمی ہونے والے متاثرین کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس کا کہنا تھا کہ چاقو بردار شخص کے حملے میں ایک خاتون اور مرد سمیت پولیس افسر زخمی ہوا ہے، پولیس افسر کو کندھے پر زخم آئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چاقو زنی کی واردات میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی۔

مزید پڑھیں : لندن : تین لاکھ سے زائد بچے جرائم پیشہ گروہوں سے منسلک ہیں، چلڈرن کمشنر

برطانیہ میں بچوں کے حقوق کے کام کرنے والے کمشنر کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 برس سے 17 برس کی عمر کے ایسے 27ہزار بچوں کی شناخت ہوئی جو صرف انگلینڈ میں جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 3 لاکھ 13 ہزار کم عمر بچے گینگ ممبر ہیں اور 34 ہزار بچے ایسے ہیں جو پُرتشدد جرائم کا تجربہ کرچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں