site
stats
حیرت انگیز

ایران میں قبروں کے مکین

تہران: ایران کے دارالحکومت تہران سے کچھ دور واقع قبرستان میں بے گھر افراد کی قبروں میں رہائش نے ایرانی صدر حسن روحانی سمیت ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔

ایران کے ایک مقامی اخبار میں بے گھر افراد سے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں قبروں میں رہنے والے ان افراد کی تصاویر شائع کی گئیں۔

iran-post-3

iran-post

یہ قبرستان دارالحکومت تہران سے 30 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہاں 50 سے زائد مرد و خواتین قبروں میں رہائش پذیر ہیں جو بے گھر ہیں اور منشیات کے عادی ہیں۔

کسی قدر خوفناک اور دکھ بھری یہ تصاویر شائع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور معروف شخصیات و عام افراد نے اسے ایک اذیت بھری اور خطرناک صورتحال قرار دے ڈالی۔

iran-post-2

آسکر ایوارڈ یافتہ ایرانی ڈائریکٹر اصغر فرہادی نے دل برداشتہ ہو کر ایرانی صدر حسن روحانی کو ایک خط بھی لکھا۔ انہوں نے کہا، ’ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد میں انتہائی دکھی اور شرمندہ ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی اس حالت کے ذمہ دار آپ، میں اور ہم سب ہیں اور ہمیں اس پر شرمندہ ہونا چاہیئے۔

مزید پڑھیں: دنیا کی خوبصورت ترین آخری آرام گاہیں

صدر روحانی نے ان کے خط کا جواب دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا، ’یہ افراد مختلف سماجی مسائل کے ہاتھوں برباد ہو کر قبروں میں پناہ لینے پرمجبور ہوگئے۔ کون ہوگا جو ایسی انسانیت سوز تصاویر دیکھ کر شرمندہ نہ ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ میں نے مغربی ممالک میں بے گھر افراد کو کاغذ کے گتوں اور میٹرو اسٹیشن پر سوتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن کبھی کسی کو قبر میں رہتے ہوئے نہیں دیکھا۔

iran-post-4

ایرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق قبروں میں رہنے والے ان افراد میں سے کچھ ایسے ہیں جو گزشتہ 10 سال سے یہیں رہائش پذیر ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص نے اخبار کے نمائندے سے سوال کیا، ’کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم غیر ملکی ہیں؟ ہم بھی اسی ایران کے رہنے والے ہیں‘۔

قبروں کے ان مکینوں نے اخبار کے توسط سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں پناہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی سکون سے گزار سکیں۔

iran-post-1

واضح رہے کہ ماہرین معاشیات کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں ایران میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2014 میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 10 فیصد سے زائد تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 13 فیصد ہوگئی جبکہ ملک کا 27 فیصد نوجوان طبقہ روزگار سے محروم ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top