The news is by your side.

Advertisement

ہانگ کانگ میں حکومت نے عوام کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، متنازع بل واپس

ہانگ کانگ: ہانگ کانگ کی حکومت نے کئی ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد عوام کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے اور متنازع بل باضابطہ طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہانگ کانگ کے وزیر سیکیورٹی جون لی نے اسمبلی میں ملزمان کی چین حوالگی کا متنازع قانونی بل احتجاجی مظاہروں کے بعد واپس لے لیا۔

جون لی نے کہا کہ اس بل سے ہانگ کانگ کا معاشرہ انتشار کا شکار ہوا لہٰذا اسے فوری طور پر ختم کیا جارہا ہے۔

احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ انتظامیہ نے اس بل کو واپس لینے میں بہت دیر کردی اب جب تک ہمارے دیگر مطالبات پورے نہیں کیے جاتے اور پولیس کے ظالمانہ اقدامات کا ازالہ نہیں کیا جاتا احتجاج جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو نے رواں سال جون میں پارلیمان میں قانونی بل پیش کیا تھا جس کے تحت ہانگ کانگ میں سنگین جرائم کے مرتکب ملزمان کا ٹرائل چین میں کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہرے، پولیس فائرنگ سے طالب علم شدید زخمی

بل کا اطلاق ہانگ کانگ اور چین کے شہریوں کے علاوہ ان غیرملکیوں پر بھی ہونا تھا جو یا تو ہانگ کانگ میں مقیم ہوں یا جرم کے ارتکاب کے بعد وہاں چلے گئے ہوں۔

واضح رہے کہ ہانگ میں رواں ماہ احتجاجی مظاہرے کے دوران سینے میں گولی لگنے سے 18 سالہ طالب علم زخمی ہوگیا تھا، واقعے کے بعد طالب علم کے ساتھیوں نے بھی دھرنا دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ میں چین کے ہامی شہریوں نے قومی دن کے سلسلے میں ایک بڑی ریلی کا اہتمام کیا تھا، اس موقع پر مخالفین بھی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

ہانگ کانگ کی پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کے اجتماع کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس شیلنگ کا استعمال کیا تھا۔

ہانگ کانگ کے مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات آئی تھیں۔ غیرملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ چین اس معاملے پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں