The news is by your side.

Advertisement

ہانگ کانگ مظاہرین نے امریکا سے مدد مانگ لی

بیجنگ: چین کے زیرانتظام علاقے ہانگ کانگ میں سیاسی بحران کے حل کے لیے مظاہرین نے امریکا سے مدد مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق چین امریکا کو پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ وہ ہانگ کانگ بحران میں مداخلت سے گریز کرے، بیجنگ حکام کا کہنا ہے کہ یہ چین کا اندرونی معاملہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہانگ کانگ ميں ہزاروں مظاہرين نے آج امريکی قونصل خانے کی طرف مارچ کیا، اور امریکی حکام سے معاملے کے حل کے لیے مدد کی درخواست کی۔

امریکی کونصل خانے کے اطراف مارچ کرنے والے مظاہرين نے امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ ہے کہ وہ ہانگ کانگ کو آزاد کرانے میں مدد کریں۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ میں مظاہرے کی وجہ بننے والا متنازعہ قانون واپس لے لیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود شہریوں نے احتجاج ختم نہیں کیا۔

رواں سال جون میں ہانگ کانگ میں مجرموں کی چین حوالگی سے متعلق متنازع بل کے خلاف لاکھوں افراد نے احتجاج کیا تھا جس کے باعث چیف ایگزیکٹو کیری لام نے عوام سے معافی مانگ لی تھی۔

ہانگ کانگ میں پابندی کے باوجود ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر،بھرپور احتجاج

بعد ازاں بیجنگ حکام نے ہانگ کانگ میں مظاہرے کرنے والوں کو خبردار کیا کہ وہ آگ سے کھیلنے سے اجتناب کریں بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چین نے بظاہر امریکا کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے پس منظر میں رہتے ہوئے مظاہرین کی حمایت کرنے والوں کو بھی نتائج سے خبردار کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں