The news is by your side.

Advertisement

امید ہے امریکی طالبان معاہدہ، انٹرا افغان مذاکرات سے ایک سیاسی حل برآمد ہوگا، منیراکرم

نیویارک : پاکستانی مندوب نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ہمیں دہشتگردی اور جائز حق خود ارادیت کے حصول کی تحریک میں فرق واضح کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، بھارتی حکومت 70سال سے کشمیری عوام کی حقوق غضب کیے ہوئے ہیں۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ بھارت دہشت گردی کا الزام لگا کرکمشیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبا نہیں سکتا، بیرونی قبضہ اور جارحیت بدترین ریاستی دہشت گردی کی اقسام ہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں تمام سیاسی قیادت کو قید اور نظر بند رکھا گیا ہے، گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دہشتگردی نے ہزاروں جانوں کا نقصان کیا۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے بعد بھارت نے 13 ہزار کشمیریوں کو قید کیا ہوا ہے، بی جے پی کی حکومت میں اسلاموفوبیا باقاعدہ ریاستی پالیسی کے تحت جاری ہے، پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل و منشور کی پر زور مذمت کرتا ہے۔

منیر اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی دہائیوں سے سرحد پار سے جاری دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، عوام اور ہماری فورسز نے ہمت اور ہم آہنگی کے ساتھ دوبارہ مقابلہ کیا اور ہم نے دہشت گردی کو شکست دینے میں بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ امید ہے امریکی طالبان معاہدہ، انٹراافغان مذاکرات سے ایک سیاسی حل برآمد ہوگا، دہشتگردی کو اپنے تمام منشور میں ہر جگہ جامع طور پر شکست دینا ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں