The news is by your side.

Advertisement

جرمنی: مساجد کو غیر ملکی عطیات کی وصولی سے روک دیا گیا

برلن: جرمن وزیرِ داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے مساجد کے منتظمین کو غیر ملکی عطیات کی وصولی سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس سلسلے کو ترک کر دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق جرمن وزیرِ داخلہ نے مساجد کے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی عطیات کی وصولی چھوڑ کر خود انحصاری پر عمل شروع کریں۔

ہورسٹ زیہوفر نے جرمن دارالحکومت برلن میں چوتھی ’اسلام جرمن کانفرنس‘ کی صدارت کی۔

ہورسٹ زیہوفر نے یہ بات گزشتہ روز جرمن دارالحکومت برلن میں چوتھی ’اسلام جرمن کانفرنس‘ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

جرمن وزیرِ داخلہ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اس ملک میں مسلمانوں کو بھی باقی جرمن شہریوں جیسے ہی حقوق حاصل ہیں اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔

خیال رہے کہ اس کانفرنس کا مقصد جرمنی میں مقیم مسلمانوں کی ملک میں سماجی شرکت اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ مکالمے کو فروغ دینا تھا۔

دوسری طرف جرمنی کی اسلام اور مہاجرین مخالف سیاسی جماعت کے سینیئر رکن نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں:  جرمنی: مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب میں اضافہ


جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ کے ایک سینیئر کارکن اشٹیفان کوئنیگر نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

پارٹی چھوڑتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی جماعت مرکزی مؤقف سے ہٹ کر اب انتہائی دائیں بازو کی جماعت بن چکی ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی میں مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز رویّوں اور تعصب پسندانہ سوچ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مسلمانوں کو خطرات لاحق ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں