The news is by your side.

Advertisement

سری لنکن اسپتالوں نے سرجری روک دی، بڑی وجہ سامنے آ گئی

کولمبو: سری لنکا کا انرجی بحران سنگین ہو گیا ہے، ملک میں 10 گھنٹے کا بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، جب کہ اسپتالوں نے سرجریاں روک دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا میں ایندھن اور جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت کے باعث مزید اسپتالوں نے معمول کی سرجریاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر سری لنکا نے بدھ کے روز ملک بھر میں ریکارڈ 10 گھنٹے روزانہ بجلی لوڈ شیڈنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 22 ملین آبادی پر مشتمل یہ جنوبی ایشیائی ملک 1948 میں آزادی کے بعد سے بدترین معاشی بحران کا شکار ہے، جس کی وجہ درآمدات کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی کی شدید کمی ہے۔

حکام کے مطابق سری لنکا کی 40 فی صد سے زیادہ بجلی ہائیڈرو پاور سے پیدا ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں کیوں کہ بارشیں نہیں ہوئیں۔

ریاستی بجلی کے ادارے کا کہنا تھا کہ تھرمل جنریٹرز کو بجلی فراہم کرنے کے لیے تیل کی عدم موجودی کی وجہ سے وہ 10 گھنٹے کی بجلی کی کٹوتی نافذ کر رہی ہے، اس مہینے کے آغاز میں یہ بندش 7 گھنٹے تک تھی۔

رپورٹس کے مطابق سری لنکا میں زیادہ تر بجلی کی پیداوار کوئلے اور تیل سے ہوتی ہے، دونوں درآمدی مصنوعات ہیں لیکن سپلائی کم ہے، کیوں کہ ملک کے پاس اتنا زرمبادلہ نہیں ہے کہ سپلائی کی ادائیگی کر سکے۔

اس صورت حال سے متاثر ہو کر مزید اسپتالوں نے معمول کی سرجریاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، کیوں کہ تشخیصی ٹیسٹ کے لیے ضروری طبی سامان، اینستھیٹکس اور کیمیکلز خطرناک حد تک کم تھے۔ ملک کی سب سے بڑی طبی سہولت، سری لنکا کے نیشنل اسپتال نے بھی کہا کہ اس نے معمول کے تشخیصی ٹیسٹوں کو بھی روک دیا ہے، تاہم اس اسپتال کو قومی گرڈ سے بجلی کی فراہم کی جا رہی ہے۔

سری لنکا کے مرکزی فیول ریٹیلر نے کہا ہے کہ ملک میں کم از کم 2 دن تک ڈیزل بھی نہیں ہوگا، جو کہ عام طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں