The news is by your side.

Advertisement

یورپ میں‌ سورج آگ برسانے لگا، پارہ 44 ڈگری تک پہنچ گیا، 2 ہلاکتیں

پیرس/برلن/برسلز : یورپ کے بیشتر ممالک میں سورج سوا نیزے پر آگیا جس کے باعث درجہ حرارت 44.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، شدید گرمی کے باعث فرانس میں دو افراد کی اموات بھی ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں کے باعث یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور سورج آگ برسا رہا ہے، جرمنی ، پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

جرمنی میں جون کے مہینے میں ملکی تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جرمنی میں تاریخ کا بلند ترین درجہ حرات پولینڈ کی سرحد پر واقع شہر کَوشن میں ریکارڈ کیا گیا جو 44.1 سے 44.3 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

قبل ازیں جرمنی میں بلند ترین درجہ حرارت ستائیس جون انیس سو سینتالیس کو بیوہلر ٹال شہر میں ریکارڈ کیا گیا تھا جو48.5 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

مزید پڑھیں: جرمنی میں گرمی کی شدت کا 72 سالہ ریکارڈ گیا، درجہ حرارت 40 ہوگیا

پولینڈ کے شہر ریڈزین اور جمہوریہ چیک کے شہر ڈوکسنی میں بالترتیب اڑتیس اعشاریہ دو اور اڑتیس اعشاریہ نو ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق فرانس اورسوئٹزرلینڈ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے، اسپین کے شمال مشرقی علاقوں میں آئندہ چوبیس گھنٹوں میں درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شدید گرمی کے باعث فرانس میں دو افراد کی اموات ہوئیں جبکہ دس کے قریب لوگوں کو بے ہوش ہونے یا طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ گرمی سے پریشان شہریوں نے دفاتر جانا چھوڑ دیا جبکہ یورپ کے بیشتر ساحلوں پر عوام کا بہت زیادہ رش دیکھنے کو بھی مل رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں