تلور کے شکار کے لیے وفاقی حکومت کی درخواست مسترد -
The news is by your side.

Advertisement

تلور کے شکار کے لیے وفاقی حکومت کی درخواست مسترد

پشاور: خیبر پختونخواہ حکومت نے قطری شہزادوں کے شکار کے لیے وزارت خارجہ کی درخواست مسترد کردی۔ وزارت خارجہ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں شکار کی اجازت مانگی تھی۔ خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ شکار کی اجازت نہیں دے سکتے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں تلور کے شکار پر پابندی عائد ہے تاہم وفاقی حکومت نے قطری شہزادے عبداللہ بن علی التھانی کو رواں سیزن کے لیے شکار کی اجازت دے دی تھی جس کے بعد صوبائی حکومت نے پابندی کی یاد دہانی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے مشیر برائے ماحولیات و جنگلات اشتیاق عمر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا،’کسی بھی مقامی یا غیر ملکی شخص کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عالمی سطح پر تحفظ یافتہ اس پرندے کے شکار پر صوبے بھر میں قانون کے تحت پابندی عائد ہے‘۔

تاہم وزارت خارجہ نے خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں شاہی خاندان کے افراد کے لیے شکار کی خصوصی اجازت کے لیے درخواست کی تھی جسے صوبائی حکومت نے مسترد کردیا۔

houbara-2

وزارت خارجہ کی جانب سے شاہی خاندان کے رکن شیخ عبد اللہ بن علی التھانی کے لیے شکار کی اجازت مانگی گئی۔

خیبر پختونخواہ حکومت نے خط میں وزارت خارجہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نایاب پرندوں کے شکار کی اجازت نہیں دے سکتے۔

صوبائی حکومت نے مزید کہا کہ حکومت نایاب پرندوں کی نسل کشی کے بجائے افزائش نسل چاہتی ہے۔ آئین و قانون کے تحت کسی کو بھی شکار کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وزارت خارجہ اور خیبر پختونخواہ حکومت کے مابین خطوط کی کاپیاں اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ تحفظ برائے فطرت آئی یو سی این کے مطابق تلور معدومی کے خطرے کا شکار حیاتیات کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان میں ہر سال 30 سے 40 ہزار تلور ہجرت کر کے آتے ہیں جن کا اندھا دھند شکار کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ برس 19 اگست کو ملک میں جاری تلور کے شکار پر پابندی عائد کردی تھی جسے بعد ازاں رواں سال کے آغاز پر وفاقی حکومت، صوبوں اور تاجروں کی جانب سے دائر کردہ اپیل کے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں