منگل, جون 16, 2026
اشتہار

18 سالہ گھریلو ملازمہ اجتماعی زیادتی کے بعد اسقاط حمل کرانے کی کوشش میں جاں بحق، موت سے قبل ویڈیو بیان سامنے آگیا

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : ماڈل ٹاؤن میں اٹھارہ سالہ ملازمہ اجتماعی زیادتی کے بعد اسقاط حمل کرانے کی کوشش میں جاں بحق ہو گئی تاہم مقتولہ کا ریکارڈ کیا گیا ویڈیو بیان سامنے آگیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے پوش علاقے ماڈل ٹاؤن میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ اجتماعی زیادتی کے بعد اسقاطِ حمل کی کوشش کے دوران لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد سروسز اسپتال میں دم توڑ گئی۔

پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے درج اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں قتل کی سنگین دفعات کا اضافہ کر دیا ہے۔

موت کی آغوش میں جانے سے قبل مقتولہ ملازمہ نے ایک تحریری اور ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا تھا، جو کیس کا سب سے اہم ترین ثبوت بن چکا ہے۔

مقتولہ نے اپنے ابتدائی ویڈیو بیان میں انکشاف کیا تھا کہ مالکن کا بیٹا اور ڈرائیور پچھلے 5 ماہ سے اسے مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے، نومبر 2025 میں اسے حاملہ ہونے کا پتا چلا، جس کے بارے میں اس نے اپنے والدین کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ ملزمان لڑکی کو اسقاطِ حمل کے لیے رائیونڈ کے ایک نجی کلینک لے گئے، جہاں اناڑی عملے کی وجہ سے لڑکی کی حالت انتہائی بگڑ گئی، تشویشناک حالت میں اسے لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ نے معاملے کی حساسیت کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقتولہ کے ویڈیو اور تحریری بیان پر اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کیا۔

پولیس حکام نے کیس میں انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہلاکت سے کچھ دیر قبل لڑکی پر اس کے اپنے باپ اور بااثر مالکان کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا، جس کے باعث لڑکی نے مرنے سے پہلے اپنا آخری بیان تبدیل کر دیا اور مرکزی ملزم کو بچانے کے لیے صرف ڈرائیور کو ہی قصوروار ٹھہرایا۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا پہلا ویڈیو بیان ریکارڈ پر موجود ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ملازمہ سروسز اسپتال میں دو دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گئی۔ بااثر ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کروا دیا گیا ہے اور تفتیش کا اگلا دائرہ کار پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں طے ہوگا تاکہ سائنسی شواہد کے ساتھ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں