The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیر ملکی ورکرز کے لیے ڈھائی لاکھ مکانات

ریاض: سعودی حکام کرونا وائرس کی وبا کے دوران غیر ملکی ورکرز کے لیے مناسب رہائش کا انتظام کر رہے ہیں اور اس کے لیے ڈھائی لاکھ سے زائد مکانات کی فہرست تیار کی گئی ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر بلدیات و دیہی امور ماجد الحقیل کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے غیر ملکی ورکرز کے لیے ڈھائی لاکھ سے زائد متبادل مکانات کا آن لائن اندراج کیا ہے۔

غیر ملکی ورکرز کے رہائشی حالات کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے متعلقہ اداروں کے تعاون و اشتراک سے ایسے مقامات کی فہرست تیار کی ہے جہاں غیر ملکی ورکرز کو مناسب طریقے سے ٹھہرایا جا سکے اور انہیں اجتماعی رہائش کے ایسے مراکز سے نکالا جا سکے جہاں کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔

غیر ملکی ورکرز کی رہائش کمیٹی نے نجی اداروں کے مالکان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ورکرز کو مقررہ ضوابط کے مطابق رہائش فراہم نہ کی تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

کمیٹی نے رہائش کے حوالے سے قواعد و ضوابط بھی جاری کیے ہیں جن کے تحت ورکرز کی رہائش ایسی ہو جہاں سماجی فاصلے کے اصول پر عمل درآمد ہو رہا ہو، مہلک وائرس سے بچاؤ کے تمام انتظامات ہوں اور ایک کمرے میں حد سے زیادہ کارکن نہ ٹھہرائے جا رہے ہوں۔

غیر ملکی ورکرز کی رہائش کمیٹی نے مختلف زبانوں میں کرونا آگہی مہم بھی شروع کی ہے جس میں مقامی شہریوں، آجروں اور ورکرز کو بتایا جا رہا ہے کہ انہیں وبا سے بچنے اور اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیا کچھ کرنا ہے اور کن باتوں سے پرہیز کرنا ہے۔

علاوہ ازیں فلاحی انجمنوں اور نجی اداروں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ کرفیو کے دوران غیر منظم ورکرز کے کھانے پینے کے انتظامات انسانی بنیادوں پر کریں، غیر ملکی ورکرز کے لیے متبادل رہائش کی فراہمی میں تعاون دیں۔

رہائشی کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جو غیر ملکی کارکن وبائی بحران کے دوران اپنے وطن جانا چاہتے ہوں انہیں وطن واپس جانے میں سہولت دی جائے۔

ایک سفارش یہ کی گئی ہے کہ مینٹیننس اور آپریشنل کمپنیوں کو غیر ملکی ورکرز کی رہائش کے حوالے سے متبادل حل کے بارے میں تعاون دیا جائے۔

علاوہ ازیں ورکرز کو فیکٹریوں میں رہنے کی اجازت دی جائے تاکہ ورکرز اجتماعی رہائش کے مسائل سے بچ سکیں اور فیکٹری آنے جانے کی زحمت میں بھی نہ پڑیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں