The news is by your side.

Advertisement

اسرائیل فلسطینی علاقوں میں مکانات تعمیر کرنے کی ضد پر قائم

واشنگٹن : اسرائیل نے امریکا اور یورپی یونین کی مخالفت اور تنقید کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری غیرقانونی ہے لیکن برسوں سے یکے بعد دیگرے اسرائیلی حکومتوں نے ان کی توسیع کی اجازت دی جس سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو تبدیل کیا گیا اور اب اس کا قیام ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

27اکتوبر کو اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے اندر یہودی آباد کاروں کے لیے3 ہزار 130 مکانات کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا جس کے ساتھ ہی اسرائیل نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے 13 ممالک کی جانب سے اسرائیلی منصوبوں پر سخت ترین تنقید کو مسترد کردیا ہے۔

نے والے اعلان کے بعد، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی توسیع کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو کہ کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی کوششوں سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچتا ہے۔

پرائس نے مزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اس معاملے پر امریکی انتظامیہ کے خیالات کو براہ راست اسرائیلی حکام کے ساتھ اپنی نجی بات چیت میں اٹھائے گی۔

اس کے علاوہ جرمنی، بیلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، ہالینڈ، ناروے، پولینڈ، اسپین اور سویڈن کی وزرات خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں فلسطینی سرزمین پر یہودی آباد کاروں کے لیے تقریباً 3000 مکانات تعمیر کرنے کے اسرائیلی حکومت کے فیصلے پر سخت تنقید کی تھی۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ہم دونوں فریقوں سے تعاون کو بہتر بنانے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے حالیہ مہینوں میں اٹھائے گئے اقدامات پر زور دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری غیر قانونی ہے لیکن برسوں کے دوران یکے بعد دیگرے اسرائیلی حکومتوں نے ان کی توسیع کی اجازت دی جس سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو تبدیل کیا گیا اور اب وہ ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں