The news is by your side.

Advertisement

کورونا کے دوران ملائیشین شہری بیروزگاری سے کیسے بچا؟

کولالمپور : کرونا وبا کے باعث بے روزگاری کا سامنا کرنے والے خاندان کو پیزا کے کاروبار نے مالا مال کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی مہلک ترین وبا نے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہلاک و بیمار کیا اور ساتھ ہی بے روزگار بھی کیا جس سے نجات کےلیے بےروزگار ہونے والے افراد نے مختلف امور کی انجام دہی کی۔

ملایشیئن شہری رودھا حسن بھی انہیں متاثرین میں سے ایک ہیں جنہیں کرونا کے باعث معاشی تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

رودھا حسن وبائی صورتحال سے قبل اسکارف بھیجنے کے کاروبار سے منسلک تھے جبکہ ان کے بہن بھائی مختلف اداروں میں ملازمت کرتے تھے۔

دنیا بھر کی طرح ملائیشیا میں کرونا وبا پھیلی تو حکومت نے ملک بھر میں لاک ڈاون کرکے کاروبار بند کردیا جس کے باعث رودھا حسن اور ان کے اہل خانہ کو معاشی تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تمام کاروبار بند ہونے کے باوجود حکومت نے ریسٹورنٹس بند نہیں کیے تھے اسی لیے رودھا حسن نے اپنے گھر کے صحن میں تندور بنایا اور پیزا بنانا شروع کردیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ہم نے جیب خرچ کےلیے پیزا کا کام شروع کیا تھا لیکن ہمارا کاروبار چند مہینوں میں اتنا مقبول ہوگیا ہے کہ اب ہم مستقبل طور پر اسی کام سے منسلک ہوگئے ہیں اور گاوں کے 20 افراد ہمارے پاس کام کررہے ہیں۔

رودھا حسن کا کہنا تھا کہ پہلے ہم صحن میں عارضی باورچی خانے میں روائتی طریقے سے پیزا بناتے تھے اور اب ہم نے دکان بھی لےلی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عارضی باورچی خانے سے روزانہ آٹھ سو کی تعداد میں پیزا بنائے جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں