The news is by your side.

Advertisement

وٹامن ڈی کرونا وائرس کے خاتمے میں کتنا اہم؟ وجہ جانئے

دنیا نے آج تک بے شمار بیماریوں اور وبا کا سامنا کیا لیکن اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ کورونا وائرس سب سے خطرناک ثابت ہوا، اگرچہ مختلف وباؤں میں کئی ملین لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن کرونا وائرس ابھی تک ایک پراسرار مرض ہے اور ماہرین صحت کو حیرت میں ڈال رکھا ہے جو اس کے خلاف مختلف تجربات کر کے ویکسین تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسی تناطر میں سعودی جریدے نے وٹامن ڈی کے ذریعے کرونا کی مرض سے بچاؤ یا اس کی شدت میں کمی کے حوالے کچھ گزارشات پیش کی ہیں۔

وٹامن ڈی کا کرونا سے تعلق

جب انسان پر کرونا وائرس حملہ کرتا ہے تو جسمانی مدافعتی نظام کرونا پر جوابی وار کے بجائے اپنے پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوجاتا ہے جس سے خون کی نالیاں کمزور اور خراب ہونے لگتی ہیں اس دوران بعض اوقات موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔

ایسے حالات میں وٹامن ڈی انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ جسم میں قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور انفیکشن کی روک تھام کے لیے خلیوں کو تحریک دینے کے لیے کام کرتا ہے، جس سے وائرس کا اثر کمزور ہوتا ہے اور اس کی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں۔

The Risk Of Vitamin D Deficiency From Oct - June | Hudson Physicians

وٹامن ڈی جسم کے اپنے خلاف جارحانہ ردعمل کو بھی کرتا ہے، حالیہ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی خون میں آئرن کی سطح کو کم کرتا ہے، جو درحقیقت وائرس کا مددگار ہوتا ہے، یوں اس کی سپلائی رک جاتی ہے اور وائرس تیزی سے ختم ہوجاتا ہے۔

وٹامن ڈی کے فوائد
سعودی جریدے کے مطابق انسانی جسم خصوصاً ہڈیوں اور دل کے لیے وٹامن ڈی کے بے شمار فوائد ہیں، جدید تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کا مدافعتی نظام کو بہتر بنانے اور جسمانی صحت کو بحال رکھنے میں بڑا کردار ہے۔

Should I Take Vitamin D to Protect Myself from COVID-19?

وٹامن ڈی کیسے پید ا ہوتا ہے؟

سورج وٹامن ڈی کا سب سے اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، اس لیے ہر شخص کو روزانہ ظہر کے بعد عصر سے قبل 15 سے 20 منٹ تک سورج کی روشنی لینی چاہیے۔

کچھ کھانوں میں وٹامن ڈی کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جیسے مچھلی، گائے کا گوشت، انڈے، سویابین، پنیر اور دودھ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا وٹامن ڈی کرونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟

وٹامن ڈی کی مقدار کے حصول کے لیے روزانہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق وٹامن ڈی کی مقدار لی جاسکتی ہے، خوراک کی مقدار کا تخمینہ لوگوں کی عمر کے حساب سے ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں