site
stats
لائف اسٹائل

عمران خان رمضان میں اپنی فٹنس کیسے برقرار رکھتے ہیں؟

رحمتوں کے مہینے رمضان میں رکھنے والے روزوں کو جسم کی زکوۃ بھی کہا جاتا ہے جب حکم خداوندی کی تعمیل میں انسان معمول کے برخلاف دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے جس کا اثر جسمانی ساخت اور وزن پر بھی پڑتا ہے۔

تاہم اسی مہینے پکوروں، پھینی اور دیگر چٹ پٹے کھانے دستر خوان کی زینت بنتے ہیں جس کی وجہ سے نظام ہضم کے ساتھ ساتھ جسمانی ساخت میں بھی تبدیلی آجاتی ہے اور کئی ایک اپنا وزن بڑھا بیٹھتے ہیں۔

اس ماہ جسمانی طور پر فٹ رہنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے بالخصوص ان لوگوں کے لیے کہ جو غذاؤں کے چناؤ میں سخت اور دن کا ایک حصہ ورزش میں صرف کرتے ہیں کیوں کہ اس ماہ سحر و افطار اورعبادات کے باعث وقت کی کمی تمام معمولات پراثرانداز ہوجاتی ہے اور ورزش کے لیے وقت نکالنا مشکل جب کہ پرہیزکرنا مشکل ترین ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں عمران خان کو اگرفٹ ترین سیاست دان کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا وہ اس عمر میں بھی سخت ورزش کرتے ہیں اور مکمل ڈائٹ پلان پرعمل پیرا ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی صحت اور فٹنس قابل رشک ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ روزہ کے ثمرات سے مکمل طور پرمستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ورزش کو جاری رکھا جائے اور چٹ پٹے کھانوں سے پرہیز کیا جائے کیوں کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو روزہ ہمارے جسم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ایک فٹ جسم اآپ کے نظم و ضبط اور طریقہ رہن سہن کا غماز ہوتا ہے اس لیے ایک فٹ جسم مستعد ذہن اور مضبوط اعصاب کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

عمران خان ماہ رمضان میں افطار سے قبل ایک گھنٹے تک ورزش کر تے ہیں اور سحر سے قبل دو میل پیدل چلتے ہیں جب کہ دہی، پھل اور انڈے سے سحری کرتے ہیں جب کہ افطار روایتی پکوڑوں، سموسے اور چنا چاٹ کے بجائے معمول کا سادہ سا کھانا نوش کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top