انٹرنیٹ جہاں تعلیم اور تفریح کا مفید ذریعہ ہے، وہیں یہ سائبر بُلنگ، نامناسب مواد اور پرائیویسی جیسے خطرات سے بھی بھرا ہوا ہے، جس کے لیے والدین کو متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے ڈیجیٹل دور میں بچوں کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچانے اور ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے والدین کے لیے اہم مشورے اور گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔
یونیسیف کے مطابق بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے اہم قدم ان کے ساتھ کھلی گفتگو ہے۔ والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے آن لائن کس سے بات کرتے ہیں اور کون سی ایپس استعمال کرتے ہیں۔
بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی کوئی بھی تصویر یا ویڈیو ایک مستقل "ڈیجیٹل نشان” چھوڑ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ گھر میں گیجٹس اور انٹرنیٹ کے استعمال کے واضح اصول اور اوقات مقرر ہونے چاہئیں تاکہ بچوں کی پڑھائی، کھیل اور سونے کا وقت متاثر نہ ہو۔
ماہرین نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے زیرِ استعمال فونز، ٹیبلٹس یا کمپیوٹرز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھا جائے اور ان میں پرائیویسی سیٹنگز اور پیرنٹل کنٹرولز کو فعال کیا جائے۔
بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ اپنا نام، پتہ، اسکول یا تصاویر کسی اجنبی سے شیئر نہ کریں۔ ساتھ ہی، ضرورت نہ ہونے پر ویب کیم کو بند یا ڈھانپ کر رکھا جائے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ خود آن لائن وقت گزاریں، ان کے ساتھ مل کر تعلیمی مواد تلاش کریں یا کھیل کھیلیں تاکہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔ بچوں میں اشتہارات، جعلی خبروں اور منفی پیغامات کو پہچاننے کا شعور بیدار کیا جائے اور ان کی عمر کے مطابق مناسب ایپس کا انتخاب کیا جائے۔
یونیسیف نے واضح کیا کہ بچے ہمیشہ بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، اس لیے والدین کو خود بھی موبائل اور سوشل میڈیا کا متوازن استعمال کر کے ایک مثبت مثال قائم کرنی چاہیے۔
انٹرنیٹ کو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے استعمال کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ جسمانی کھیلوں اور آف لائن سرگرمیوں کا توازن برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے۔
والدین کو اسکولوں کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور مقامی ہیلپ لائنز سے بھی باخبر رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


