جمعہ, اپریل 17, 2026
اشتہار

ادائیگی کرتے ہوئے جعلی کیو آر کوڈ سے کیسے بچیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

(15 مارچ 2026): آج کے دور میں ڈیجیٹل ادائیگی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مختلف عمر کے افراد روزمرہ خریداری اور خدمات کی ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

دکانوں، مارکیٹوں اور دیگر تجارتی مقامات پر لوگ نقد رقم کی بجائے موبائل فون کے ذریعے فوری طور پر کیو آر کوڈ اسکین کر کے ادائیگی کر دیتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ سہولت جہاں ادائیگی کے عمل کو آسان بناتی ہے، وہیں بعض اوقات صارفین کے لیے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

ان دنوں سائبر جرائم پیشہ افراد جعلی کیو آر کوڈ کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ دھوکے باز اصل کیو آر کوڈ کے اوپر اپنا جعلی کوڈ چپکا دیتے ہیں۔ جب کوئی گاہک اسے اسکین کر کے ادائیگی کرتا ہے تو رقم دکان دار تک پہنچنے کی بجائے براہِ راست فراڈی کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔

اس طرح کے آن لائن فراڈ سے محفوظ رہنے کے لیے ماہرین چند احتیاطی اقدامات اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں:

کیو آر کوڈ کو غور سے دیکھیں: ادائیگی سے پہلے کوڈ کا اچھی طرح جائزہ لیں۔ اگر اس پر کوئی اضافی کاغذ یا اسٹیکر چپکا ہوا نظر آئے تو ممکن ہے وہ جعلی ہو۔

ادائیگی سے پہلے نام کی تصدیق کریں: کوڈ اسکین کرنے کے بعد اسکرین پر جو نام ظاہر ہو، اسے ضرور چیک کریں۔ اگر وہ دکان دار یا متعلقہ شخص کے نام سے مختلف ہو تو رقم منتقل کرنے سے گریز کریں۔

جلد بازی نہ کریں: بہت سے لوگ عجلت میں تفصیلات دیکھے بغیر فوراً ادائیگی کر دیتے ہیں، جس سے دھوکے باز فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ اس لیے رقم بھیجنے سے پہلے تمام معلومات کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر صارفین تھوڑی سی احتیاط اور توجہ اختیار کریں تو وہ نہ صرف آن لائن دھوکا دہی سے بچ سکتے ہیں بلکہ ممکنہ مالی نقصان سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں