The news is by your side.

Advertisement

کرونا کو شکست دینے کے لیے چین نے اپنے شہریوں کو کون سی خوراک کھلائی؟

کراچی: کرونا ایڈوائزری گروپ کی ممبر ڈاکٹر عائشہ نے کہا ہے کہ چین سے پاکستان آنے والی طبی ٹیم نے کرونا وائرس سے متعلق اپنا تجربہ شئیر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنے شہریوں کو قوتِ مدافعت بڑھانے والی خوراک کا زیادہ استعمال کروا کے وبا پر قابو پایا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ چین کی طبی ٹیم کے مطابق مریضوں کو ایسی خوراک استعمال کا زیادہ استعمال کروانا چاہیے جو قوتِ مدافعت کو بڑھائیں کیونکہ اس کے بعد وائرس جسم میں کمزور پڑنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر جلد اس سے نجات مل جاتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ چینی ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ شہری بھی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے والی خوراک استعمال کریں۔ طبی ٹیم نے بتایا کہ کرونا کی علامات 28 روز بعد بھی ظاہر ہوئیں۔

جناح اسپتال کراچی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی کرونا ٹیسٹنگ کی استعداد جارحانہ قسم کی نہیں ہے، مریضوں کی درست تعداد بھی مجھے معلوم نہیں ہے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت جو تعداد بتائی جارہی ہے وہ تصدیق شدہ کیسز کی ہے، 14دن قرنطینہ میں رہنےکا مقصدیہ نہیں کہ پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ متاثرہ شخص دوسرے کو متاثر نہ کرے۔

پروگرام کی مکمل ویڈیو

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں